آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو دھمکیوں کے بعد این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں،سوشل میڈیا صارفین کا خیر مقدم
Home - آزاد انتخاب - آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو دھمکیوں کے بعد این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں،سوشل میڈیا صارفین کا خیر مقدم
آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مصور عباسی اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیوں کے معاملے پر قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ملک گیر کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ صحافیوں، میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف این سی سی آئی اے کا کریک ڈاؤن اس بات کا واضح پیغام ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو بھی دھونس، دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے دوسروں کی آواز دبانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صارفین کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت اپنے خلاف اٹھنے والی تنقیدی آوازوں اور ان سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے دھمکیوں کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جو ان کے بقول جماعت کے جرائم، فرنٹ مینوں اور نام نہاد مدرسہ سنڈیکیٹ سے متعلق معاملات کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے کے لیے دھمکانا آزادی صحافت اور آزادانہ اظہارِ رائے پر حملے کے مترادف ہے،کسی بھی سیاسی جماعت، تنظیم یا بااثر گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تنقید یا تحقیقاتی صحافت کا جواب دھمکیوں اور ہراسانی سے دے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو کسی صحافی کی رپورٹنگ، مؤقف یا تجزیے سے اختلاف ہے تو اس کے لیے قانونی اور جمہوری راستے موجود ہیں، لیکن ذاتی حملوں، اہل خانہ کو دھمکانے اور سوشل میڈیا پر منظم ہراسانی کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
صارفین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ صحافیوں، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی صحافتی آزادی پر ڈاکہ ڈالنے یا اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کی جرات نہ ہو۔
واضح رہے کہ آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصور عباسی نے اپنے اور اہل خانہ کو سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس اور فیس بک صفحات کے ذریعے موصول ہونے والی دھمکیوں کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرائی تھی۔
ذرائع کے مطابق فیس بک انتظامیہ سے رابطے کے بعد 150 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ڈیجیٹل ڈیٹا، آئی پی ایڈریسز اور تکنیکی لوکیشنز فراہم کی گئیں، جن کی بنیاد پر این سی سی آئی اے نے ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 17 چھاپے مارے جا چکے ہیں، جن کے دوران متعدد سوشل میڈیا کارکنان اور پیجز کے منتظمین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی قبضے میں لے کر فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کی کارروائیوں کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور صحافیوں کو دھمکانے، ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے اور میڈیا اداروں کو دباؤ میں لانے والے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔