پشاور پولیس نے 24 گھنٹے سے کم وقت میں نادرا افسر کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا گیا

پشاور پولیس نے 24 گھنٹے سے کم وقت میں نادرا افسر کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا گیا

 خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرلی ہے، جبکہ ملزمان کے زیرِ استعمال راستے کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق قتل کے واقعے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے زیرِ استعمال راستے کی نشاندہی کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب مقتول فہد خان کے بھائی عدنان راجپوت کی مدعیت میں تھانہ حیات آباد میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان اپنی گاڑی کھڑی کرنے کے بعد دفتر جانے کے لیے سڑک عبور کر رہے تھے کہ اسی دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں فہد خان شدید زخمی ہوکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا۔

کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور نے تحقیقات کی ابتدائی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فہد خان کے قتل کی ممکنہ وجہ سابقہ دشمنی سامنے آئی ہے، جبکہ اب تک کی تحقیقات میں واقعے کے دہشت گردی سے منسلک ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

سی سی پی او کے مطابق جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے آٹھ خالی خول برآمد کیے گئے ہیں، جنہیں مزید فارنزک تجزیے کے لیے پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی شناخت اور استعمال کردہ راستے کی نشاندہی ممکن ہوئی۔

پولیس کی خصوصی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

Related Articles