وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی دستیابی اور مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حکومت نے رواں ہفتے ایل پی جی کی سپلائی میں حائل شدید رکاوٹوں اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ایک نئی جامع پالیسی کی رونمائی کی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم کرنا اور 4 ریاستی ملكیتی اداروں (ایس او ایز) کو حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) اور بزنس سے بزنس (بی ٹو بی) کے معاہدوں کے تحت ایل پی جی کی درآمدی بزنس میں دوبارہ شامل کرنا ہے۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق وفاقی وزیر نے ایل پی جی کی شفاف نیلامی کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ اوپن نیلامی کا نیا نظام ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم، سپلائی چین میں استحکام اور توانائی کی سیکیورٹی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس عمل میں میڈیا کی موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مڈل مین یا درمیانی راستے سے غیر قانونی منافع کمانے والے عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
پیداوار کی تقسیم اور خریداری کی حد کے فیصلے
اجلاس میں طے پانے والے نئے طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پروڈیوسرز اپنی کل پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کو دیں گے تاکہ دور دراز اور محروم علاقوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
باقی ماندہ 90 فیصد مقامی ایل پی جی کی کھلے عام اور شفاف نیلامی کی جائے گی، جس میں تمام اہل کمپنیوں کو حصہ لینے کے لیے برابر کے مواقع ملیں گے۔
اجلاس میں یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا کہ کسی بھی سنگل کمپنی کو نیلامی کے ذریعے روزانہ 20 میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے اجارہ داری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہوگا۔
اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی پیداوار کی نگرانی کی جائے گی اور تمام تر اعداد و شمار وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔
ایرانی سرحد کی بندش اور مارکیٹ کے مسائل
پاکستان میں ایل پی جی، جسے ماضی میں غریب کا ایندھن سمجھا جاتا تھا، اب درمیانے طبقے کے گھرانوں میں بھی کھانا پکانے اور ہیٹنگ کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
خاص طور پر سردیوں کا موسم آتے ہی گیس سلنڈرز کی طلب میں انتہائی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پائپ لائن گیس سے محروم صارفین کے علاوہ رکشوں اور ترقیاتی شعبوں میں بھی اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی سرحدی راستوں کی بندش کے باعث ایل پی جی کی رسد شدید متاثر ہوئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلی مارکیٹ میں سلنڈرز سرکاری طے شدہ قیمت سے دگنے داموں فروخت ہوتے رہے۔
اس صورتِ حال نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جسے حل کرنے کے لیے حکومت درآمدی چینلز کو بحال کرنے اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوئی ہے۔
شدید سردی میں گیس بحران اور متبادل ذرائع
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے تسلیم کیا کہ دسمبر اور جنوری میں شدید سردی کے دوران ایندھن کی طلب عروج پر پہنچ جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر پائپ لائن نیٹ ورک کے لیے مہنگا ترین ایندھن یعنی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی حاصل کرنا پڑا تو حکومت اسے لائے گی اور طلب کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
وزیر پیٹرولیم نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ خاص طور پر کھانا پکانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو پائپ کے ذریعے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں پائپ لائن کا نظام موجود نہیں، وہاں ایل پی جی کے شفاف نظام کی بدولت طلب اور قیمتوں کے توازن کو بگڑنے سے روکا جائے گا۔
سپلائی چین کے چیلنجز اور انتظامی حکمت عملی
توانائی کے شعبے میں طویل عرصے سے سٹرکچرل مسائل اور درآمدی انحصار کی وجہ سے سرما کا موسم ہمیشہ بحرانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔
مڈل مین کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور اوپن اکشن کا نظام نافذ کرنا کاغذات کی حد تک انتہائی بہترین اقدام ہے، تاہم اس کی کامیا بی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ حکومت کس حد تک نیلامی کے پروسیس اور قیمتوں کے نفاذ کی مانیٹرنگ کرتی ہے۔
اگر سرکاری ادارے یعنی ایس او ایز بروقت ایل پی جی کی درآمد ممکن بناتے ہیں اور 20 میٹرک ٹن کی روزانہ کی حد پر سختی سے عمل کرواتے ہیں، تو اس سے مارکیٹ میں مصنوعی قحط پیدا کرنے والے مافیا کی حوصلہ شکنی ہو گی۔
تاہم سرحدوں کی صورتِ حال اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں کے اثرات سے مقامی صارفین کو محفوظ رکھنا حکومت کی انتظامی اور مالیاتی صلاحیتوں کا بڑا امتحان ہو گا۔