لاہور میں پی ٹی آئی جلسے سے قبل اہم پی ٹی آئی رہنمائوں کیلئے بُری خبر آگئی

لاہور میں پی ٹی آئی جلسے سے قبل اہم پی ٹی آئی رہنمائوں کیلئے بُری خبر آگئی

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 12 رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنمائوں کیخلاف مقدمات سب انسپکٹر خالد محمود کے بیان پر درج کیے گئے، جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے راستہ بلاک کر کے ٹریفک میں خلل پیدا کیا۔ پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے منع کرنے کے باوجود کرسیاں لگا کر بیٹھنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقدمے میں غلام مصطفیٰ، تصور حسین اور غلام محی الدین سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اگر پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پارٹی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، الیکشن کمیشن

دوسری جانب لاہور میں پی ٹی آئی کے 21 ستمبر کو ہونے والے جلسے کے اعلان کے بعد پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اعوان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں ان کے بھائی اور کزن کو حراست میں لیا گیا۔ شیخ امتیاز کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

پولیس نے غازی آباد، شاہدرہ، ہربنس پورہ، ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں چھاپے مارے جبکہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس نے پی ٹی آئی کے ممکنہ جلسے کے لیے سکیورٹی کا جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ سکیورٹی اہلکار لاہور کے داخلی دروازوں پر تعینات ہوں گے اور جلسے کے مقام پر کیمروں سے ریکارڈنگ کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی اجازت ملنے پر سکیورٹی ڈیوٹی بھی لگائی جائے گی۔

editor

Related Articles