خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کا ٹیسٹ لینے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کے تعلیمی نظام میں کتنی بہتری آئی؟ اساتذہ اور طلبہ کے اسسمنٹ کا اہم فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ اسسمنٹ کے لیے محکمہ تعلیم کے متعلقہ اساتذہ کی تربیت کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو جانچنے کے لیے اسسمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسسمنٹ کرانے کا مقصد اساتذہ کی پڑھائی کے طریقہ کار کو دیکھنے اور طلبہ کے سیکھنے کے عمل کا جائزہ لینا ہے۔

حکام کے مطابق اساتذہ کی تربیت میں کیا خامیاں ہے اور طلبہ کی کمزوریوں کو کیسے ختم کیا جائے ان بنیادی مسائل کو دیکھنے کے لیے اسسمنٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے مطابق گزشتہ سال بھی ایک سروے منعقد کیا کیا تھا جس میں طلبہ اور اساتذہ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا گیا تھا۔ اس بار ایک اور سروے کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کی مدد سے معلوم کیا جائے گا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال تعلیمی نظام میں کتنی اور کس قدر بہتری آئی ہے۔

حکام کے مطابق سروے خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں منعقد کی جائے گی۔سروے کے لیے صوبے کے 22 سو سکولز کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں گریڈ 2، گریڈ 5 اور گریڈ 8 کے طلبہ اور اساتذہ کی اسسمنٹ ہوگی۔ دستاویزات کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سروے میں 6 ہزار تربیت یافتہ اساتذہ حصہ لینگے جس میں 50 فیصد طلبہ اور 50 فیصد طالبات کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔

سروے کے دوران ہر جماعت سے 10 سے لیکر 20 طلبہ کا رینڈم انتخاب کیا جائے گا اور ان سے انگریزی ،اردو،جنرل سائنس ،ریاضی کے مضامین میں ٹیسٹ لیا جائے گا۔حکام کے مطابق اسی طرح اساتذہ کے لیے بھی ٹیسٹ ڈیزائن کیا گیا ہے۔جس کا مقصد اساتذہ کے پڑھانے کے طریقہ کار کو دیکھا ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے نہ صرف کی پڑھانے کے طریقہ کار کو دیکھا جائے گا بلکہ ان کو دی جانے والی مختلف تربیت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق تین دنوں پر مشتمل سروے کا آغاز 17 مارچ سے ہوگا جو 19 مارچ تک جاری رہے گی۔ سروے سے متعلق تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہے۔ اس اسسمنٹ کی مدد سے لی گئی ٹیسٹ کو پھر ایک ماہرین کی ٹیم کی مدد سے چیک کیا جائے گا جو تعلیمی نظام میں بہتری یا نقص کی نشاہدہی کریں گا۔

اس سروے پر عالمی بینک کے تعاون سے 15 سے 16 کروڑ روپے خرچ کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں 35 ہزار پرائمری ،مڈل اور ہائی سکولز موجود ہے جہاں ہر 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد اساتذہ تعینات ہے۔ اس سلسلے میں جب خیبرپختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر آصف شہاب اور ایجوکیشن کے متعلقہ آفیسر سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ سروے پاکستان کی تاریخ کی بڑی سروے ہوگی جس میں 22 سو طلبہ کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

ان کے مطابق گزشتہ سال 2024 میں بھی ایک سروے کیا گیا تھا جسے بیس لائن سروے کہا گیا جبکہ اس کو اینڈ لائن سروے قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سروے میں بہت کچھ سامنے آئے گا جس سے فیصلہ کرنا آسان ہوگا کہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی نظام میں کس قدر بہتری آئے ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں اساتذہ کی تربیت کی گئی ہے اسی طرح نصاب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لائی گئی ہے۔

Related Articles