خیبرپختونخوا حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ترقیاتی بجٹ سے توجہ ہٹانے کیلئے پشاور کے ترقیاتی منصوبوں کی فہرست مرتب کرنے پر کام شروع کردیا۔
خیبرپختونخوا کے ایک مخصوص ضلع کو ترقیاتی بجٹ پر حکومتی ارکان اسمبلی کے تحفظات سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے اس کا ایک انوکھا حل نکال لیا، اپنی ہی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کی مخصوص ضلع میں ترقیاتی منصوبوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پشاور میں موجودہ حکومت کے ایک سال کے دوران اور پرانے منصوبوں کی فہرست پر کام شروع کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عابد مجید نے تمام محکموں کی میٹنگ طلب کی تھی جنہیں ٹاسک سونپ دیا گیا کہ وہ پشاور میں ترقیاتی منصوبوں کی فہرست تیار کریں جن کو موجودہ حکومت کے کھاتے میں ڈال دیا جائے گا اور وہی منصوبے جو پہلے سے شروع کردہ ہیں اور موجودہ حکومت نے بھی اس کو جاری رکھا ہوا تو وہ بھی پشاور کے کھاتے میں ڈال دیں گے تاکہ مخصوص ضلع میں ترقیاتی کاموں پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے پشاور کے لیے ایک تحریری طریقہ کار (فارمیٹ) وضع کیا ہے جس کے تحت تمام محکمے اپنے ترقیاتی کاموں کا اعداد و شمار اس فارمیٹ میں درج کریں گے جس میں منصوبے کا نام، اخراجات، مقام، جاری کام کی تفصیل، منصوبے کے شہریوں پر اثرات اور اس سے کتنے لوگ مستفید ہوئے کی تفصیلات درج ہیں۔
محکمہ زراعت کے پہلے سے جاری کئی منصوبے جس کی لاگت 3 ارب 18 کروڑ ہے جس میں واٹر سکیمیں، ریسرچ سنٹر ترناب، ڈیری فارمز وغیرہ، محکمہ آرکیالوجی کی پشاور میں مہابت خان، وال سٹی، گور کھتری کے 70 کروڑ 70 لاکھ کے منصوبے جس میں گور گھڑی سمیت دیگر منصوبے شامل ہے جو کئی سال قبل مکمل ہو چکے ہیں بھی اس فارمیٹ کے ذریعہ موجودہ حکومت اور پشاور کے کھاتے میں ڈال دئیے جائیں گے، محکمہ اوقاف میں پشاور کے لیے کتنے منصوبے شروع کیے گئے ہیں اس کی تفصیل بھی متعلقہ محکمہ سے طلب کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات سے پشاور چڑیا گھر کی تفصیل بھی طلب کی گئی ہے، 2024 کے دوران پشاور میں کتنے درخت اگائے گئے ہیں وہی تفصیل بھی مانگ لی گئی ہے۔
محکمہ ورکس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی اینڈ ڈبلیو) سے پشاور میں جاری پراجیکٹس میں ایسے منصوبوں کی تفصیل بھی شامل ہے جو کئی سال قبل مکمل ہو چکے ہیں۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سے پشاور میں 2024 کے دوران اپ گریڈ ہونے والے سکولوں اور مہیا کی جانے والی فرنیچر سمیت مستقبل کے منصوبوں کا ریکارڈ مانگ لیا گیا ہے کہ اس پر کتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت سے پشاور کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں تزئین و آرائش اور بیڈز کی تعداد میں اضافہ سمیت پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جس سے 7 لاکھ 66 ہزار افراد مستفید ہوئے ہیں، 1 ہزار 9 سو سے زائد اوپن ہارٹ سرجریز ہوئی ہے اور 17 ہزار دیگر آپریشنز ہوئے ہیں، ہسپتالوں کو مہیا کی جانے والی آلات، فوڈ لیبارٹری، اِرنم ہسپتال اور دیگر بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، محکمہ صحت میں ایک سال کے دوران ضلع پشاور میں کیا ہوا ہے اور مستقبل کے کیا منصوبے ہیں اس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ ہوم سے سیف سٹی پراجیکٹ، پشاور سنٹرل جیل میں ہونے والے اقدامات، فارنزک سائنس لیب کا قیام، محکمہ ہاؤسنگ سے پشاور ویلی جو عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کے وقت سے شروع ہے لیکن اب تک اس پر کوئی عملی کام نہیں ہوا ہے۔ پشاور حیات آباد کے فیز 5 میں ہائی رائز بلڈنگ جس میں 144 فلیٹس ہوں گے، سوڑیزئی ہاؤسنگ سکیم، پشاور میں انڈسٹریل پارک، محکمہ اِریگیشن، محکمہ لائیو سٹاک، لوکل گورنمنٹ سے پشاور بس ٹرمینل، پشاور بیوٹی فیکشن سمیت دیگر منصوبے، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے پشاور میں کل منصوبوں کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔
محکمہ سوشل ویلفئیر، سپورٹس، سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پشاور میں ایک سال کے دوران کتنی رقم زکواۃ کی مد میں دی گئی اس کا ریکارڈ محکمہ زکواۃ سے طلب کیا گیا ہے، محکمہ ٹرانسپورٹ سے بی آر ٹی میں توسیع، پشاور میں کنسٹرکشن آف ٹرانسپورٹ کمپلیکس اور زو بزنس سنٹرز کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہر ایک سکیم سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں اور اس کو ایک رپورٹ کی شکل میں جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے کیونکہ اراکینِ اسمبلی کی جانب سے یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ سارا فنڈ مخصوص ضلع ڈیرا اسماعیل خان میں جا رہا ہے اور وہاں پر نئے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔ رابطہ کرنے پر وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری عابد مجید نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ معمول کی پریکٹس ہے جو وزیر اعلی ہاوس کے پلاننگ افس میں ڈیٹا کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔