خیبرپختونخوا میں گورنر راج؟ وفاق نے بڑا قدم اٹھانے پر غور شروع کردیا،بیرسٹر عقیل

خیبرپختونخوا میں گورنر راج؟ وفاق نے بڑا قدم اٹھانے پر غور شروع کردیا،بیرسٹر عقیل
 وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالات اور گورننس کے مسائل کے باعث وفاقی حکومت گورنر راج کے امکان پر غور کر رہی ہے۔

آرٹیکل 232 کے تحت غور

وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال تشویش ناک ہے۔  صوبے میں گورننس سے متعلق کئی مسائل موجود ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :کے پی میں گورنر راج کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کا اہم بیان سامنے آگیا

بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔

صوبائی گورننس پر سوالات

وزیر مملکت نے گفتگو میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے صوبے میں موجود گورننس کے مسائل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں وفاقی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

عطا تارڑ کی پی ٹی آئی پر تنقید

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی لائحہ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے ساتھ تجارت سے عوام کو براہ راست ریلیف ملے گا، بیرسٹر عقیل

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے اسلام آباد جانے کا نہیں بلکہ اقتدار سے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی کی ’’بی ٹیم‘‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ ان کے بقول تحریک انصاف کے رہنما سیاسی سرگرمیوں کے بجائے انتشار کی سیاست کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles