علیمہ خان کی گرفتاری،نورین نیازی نے انتشاری بیانیہ پھیلانا شروع کردیا

علیمہ خان کی گرفتاری،نورین نیازی نے انتشاری بیانیہ پھیلانا شروع کردیا

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے بیانات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔

 نورین نیازی نے علیمہ خان کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے وہ خوفزدہ نہیں ہوں گی  انہوں نے انتشاری بیانیہ پھیلاتے ہوئے کہا کہ ہم اب مزید طاقت سے نکلیں گے ۔

 علیمہ خان کو 20 ستمبر کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا 27 ستمبر کا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور اس کا مقصد آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی  نےہمیشہ پرتشدد مظاہرے کیے،اسلام آباد میں احتجاج نہیں ہونے دیں گے،عطا تارڑ

علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی بہن نورین نیازی نے پریس کانفرنس میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں سے انہیں ڈرایا نہیں جاسکتا۔

نورین نیازی کے مطابق 27 ستمبر کو احتجاج مزید قوت کے ساتھ کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں اور نوجوانوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہیں اور احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ علیمہ خان کی گرفتاری احتجاج میں شرکت سے بچنے کے لیے ایک طے شدہ اقدام تھا۔

 پی ٹی آئی کی جانب سے علیمہ خان کی گرفتاری کو حکومت کا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے مارچ کو پُرامن قرار دیا ہے۔

اسی دوران پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے رہنما جنید اکبر سے منسوب ایک بیان بھی سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جس میں انہوں نے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد کو  سومنات بنائیں گے۔

اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کی زبان کو 27 ستمبر کے اعلان کردہ احتجاج کو پُرامن قرار دینے کے دعوے کے ساتھ کیسے دیکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :جنید اکبر کے بیان پر طلال چوہدری کا ردعمل،ریاستی طاقت سے شہریوں کے تحفظ کا اعلان

حکومتی شخصیات پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جنید اکبر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان بیانات سے احتجاج کے ارادے واضح ہوتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ریاست شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک طرف پی ٹی آئی قیادت 27 ستمبر کے مارچ کو پُرامن اور سیاسی جدوجہد قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پارٹی کے بعض رہنماؤں کے سخت بیانات نے احتجاج کے ممکنہ انداز پر بحث چھیڑ دی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے تشدد، توڑ پھوڑ یا قانون شکنی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کی سیاسی جدوجہد آئینی اور پُرامن ہے۔

علیمہ خان کی گرفتاری، نورین نیازی کے تازہ بیان اور جنید اکبر کے سخت الفاظ کے بعد 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور آیا 27 ستمبر کا احتجاج سیاسی سرگرمی تک محدود رہتا ہے یا حالات کسی اور سمت جاتے ہیں۔

editor

Related Articles