نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان سے ملحقہ ممالک، خصوصاً پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے طالبان حکومت سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر افغانستان سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے افغانستان کی صورتحال اور خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو علاقائی امن کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ مقصد کے لیے محض یقین دہانیاں کافی نہیں بلکہ عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کو بھی اجلاس میں اجاگر کیا۔
ان کے مطابق حملے میں بے گناہ افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسے واقعات خطے میں موجود دہشت گردی کے خطرے کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔
انہوں نے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق علاقائی امن کے لیے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی زور دیا۔
نائب وزیراعظم نے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے ایسی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو ان کے مطابق اسلامی اصولوں اور مسلم معاشرتی اقدار سے متصادم ہیں۔
انہوں نے افغانستان میں سیاسی طور پر جامع طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان واپس آنے والے شہریوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کے لیے سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔