امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان گرین لینڈ کی سیکیورٹی اور دفاع سے متعلق اہم معاہدہ طے پاگیا ہے۔
معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے دستخط کیے۔
گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھے گی
معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں اپنی فوجی سرگرمیوں اور دفاعی تنصیبات کو وسعت دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ موجودہ پٹوفک اسپیس بیس کو جدید بنانے اور اس کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ جنوبی گرین لینڈ میں نارسارسواک اور مشرقی ساحل پر میسٹرسویگ میں دو نئے دفاعی علاقوں کے قیام کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ معاہدے میں مستقبل میں مزید دفاعی علاقوں کے قیام کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :گرین لینڈ پر ٹرمپ کا بڑا اعلان، امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ
معاہدے کے تحت امریکی فوجی طیاروں کو گرین لینڈ کے مختلف علاقوں میں پرواز اور لینڈنگ کی اجازت ہوگی۔ امریکی بحری جہازوں کو بھی علاقائی پانیوں میں مخصوص فوجی رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم معاہدے میں امریکی فوجیوں کی تعداد یا نئی تنصیبات کی تکمیل کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی۔
روس اور چین کی سرگرمیاں اہم معاملہ
امریکی حکومت گرین لینڈ اور آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو سیکیورٹی کے اہم چیلنجز میں شمار کرتی ہے۔ نئے معاہدے میں آرکٹک خطے میں نگرانی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت نیٹو کے آرکٹک خطے میں کردار کو بھی مضبوط بنانے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس میں فوجی منصوبہ بندی، موجودگی، مشترکہ مشقوں اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔
گرین لینڈ کی خودمختاری برقرار رہے گی
معاہدے میں ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کی علاقائی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ نے فوج کو گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا،برطانوی میڈیا کا دعویٰ


