امریکہ میں جاری تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن نے فضائی نظام کو سنگین خطرات میں ڈال دیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہونے اور ہوابازی کے شعبے کو نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ملک کے 40 بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد میں ابتدائی طور پر 4 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ اگر حکومتی شٹ ڈاؤن آئندہ ہفتے تک برقرار رہا تو یہ کمی بتدریج بڑھ کر 10 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے بعد متعدد بڑی ایئرلائنز نے جمعے اور ہفتے کے لیے اپنی درجنوں پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایف اے اے کے ایڈمنسٹریٹر برائن بیڈفورڈ کے مطابق پروازوں میں کمی فی الحال صرف زیادہ مصروف ہوائی اڈوں پر لاگو ہوگی تاکہ نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح 6 بجے سے پروازوں کی تعداد میں کمی کا نفاذ شروع ہو گیا ہے اور اگر شٹ ڈاؤن کا سلسلہ برقرار رہا تو منگل کو یہ کمی 6 فیصد، جمعرات کو 8 فیصد اور اگلے جمعے تک 10 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
ایف اے اے نے ایئرلائنز کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خود طے کریں کہ کن روٹس یا پروازوں کو منسوخ کیا جائے یاد رہے کہ یکم اکتوبر سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن بن چکا ہے جس کے باعث ائیر ٹریفک کنٹرولرز اور ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں سمیت ہزاروں وفاقی ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔
اگرچہ یہ اہلکار ضروری سروسز کے تحت ڈیوٹی پر موجود ہیں لیکن مسلسل تنخواہوں کی عدم ادائیگی کارکردگی اور سکیورٹی اقدامات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
یونین نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن مزید طویل ہوا تو ہوابازی کے حفاظتی معیار پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ پروازوں میں کمی عارضی اقدام ہے جو سکیورٹی اور حفاظتی نظام کو مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔