امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے ایران جنگ اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر غور کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں ایک غیر اعلانیہ اجلاس کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی اور یہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اگلے مرحلے اور یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع پر امریکی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
ایکسیوس کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے معاملے پر سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور امریکی انتظامیہ ایران میں بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ اجلاس میں آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب یمن کی صورتحال بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔ ایکسیوس کے مطابق سعودی عرب یمنی حکومتی فورسز کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف بڑی جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ سعودی منصوبے میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے فی الحال سعودی عرب کی اس کارروائی میں براہِ راست فوجی شرکت سے گریز کیا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے غیر جنگی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس میں انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ امریکی پالیسی میں آئندہ تبدیلی کا امکان بھی زیر غور بتایا گیا ہے۔
ایران کے معاملے پر امریکا اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری رہے ہیں، تاہم حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایکسیوس کے مطابق قطر سمیت ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں جانب اہم معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔
کیمپ ڈیوڈ کا یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ایکسیوس کے مطابق جون 2025 میں بھی اسی نوعیت کی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی تھی، جو ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی سے قبل ہوئی تھی۔ موجودہ اجلاس میں بھی ایران اور یمن دونوں محاذوں پر آئندہ امریکی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
ادھر خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایکسیوس اور دیگر رپورٹس کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں اضافی بحری اور فوجی وسائل بھیجنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے<