متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی سے لندن جانے والی ایمریٹس کی پرواز میں ایک مسافر کی حالت اچانک غیر ہونے پر طیارے کا رخ ہنگامی طور پر جرمنی کے شہر فرینکفرٹ موڑ دیا گیا۔ بروقت طبی امداد کی فراہمی کے بعد پرواز کو اپنی منزل کی جانب دوبارہ روانہ کر دیا گیا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق ایمریٹس کی پرواز ’ای کے 31‘ حسبِ معمول دبئی سے لندن ہیتھرو کی طرف محوِ پرواز تھی۔ دورانِ سفر ہزاروں فٹ کی بلندی پر ایک مسافر کو شدید نوعیت کی طبی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کیبن عملے نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پائلٹ کو مطلع کیا۔ انسانی جان کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر پائلٹ نے پرواز کا رخ فوری طور پر مغربی جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی جانب موڑ دیا۔
فرینکفرٹ میں امدادی کارروائیاں
جرمن ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی پیشگی اطلاع دی جا چکی تھی تاکہ وقت ضائع کیے بغیر اقدامات کیے جا سکیں۔ طیارے کے بحفاظت رن وے پر اترتے ہی طبی عملہ وہاں موجود تھا۔
متاثرہ مسافر کو جہاز سے اتار کر فوری طور پر مقامی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا تاکہ اسے مزید اور بہتر علاج فراہم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے بعد پرواز نے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے (1400 جی ایم ٹی) لندن ہیتھرو کے لیے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔
24 گھنٹوں کے دوران دوسرا واقعہ
حالیہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محض ایک روز قبل ہی دبئی سے اڑان بھرنے والی ایک اور پرواز کو بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ’ایف زیڈ 1073‘ کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
اس پرواز میں 174 مسافر سوار تھے اور یہ غیر معمولی قدم کاک پٹ کے اندر ہونے والی تلخ کلامی کی تشویشناک اطلاع ملنے کے بعد اٹھایا گیا تھا۔
فضائی سفر اور چیلنجز
ایوی ایشن انڈسٹری میں مسلسل دو روز کے دوران پیش آنے والے یہ واقعات فضائی سفر سے جڑے جدید چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک طرف فضائی عملہ طبی نوعیت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انتہائی تربیت یافتہ ہوتا ہے، جس کا عملی اور مثبت مظاہرہ فرینکفرٹ لینڈنگ میں دیکھنے کو ملا۔ انسانی جان کے تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی گئی۔
تاہم دوسری جانب کاک پٹ میں تلخ کلامی جیسے واقعات اس شدید دباؤ اور پیشہ ورانہ تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں جس کا سامنا آج کل فضائی عملے کو ہو سکتا ہے۔
فضائی کمپنیوں کے لیے اب محض تکنیکی اور طبی سلامتی ہی کافی نہیں رہی، بلکہ عملے کی ذہنی صحت اور پرسکون ماحول کی فراہمی بھی ایک اہم ترین چیلنج بن چکی ہے۔ جدید ایوی ایشن میں ایئرلائنز کا ایسے مواقع پر فوری ایکشن لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسافروں کی سلامتی ہر تجارتی اصول اور وقت کی پابندی پر مقدم رکھی جاتی ہے۔