برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے نیا ریکارڈ بنا دیا ،نئی قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گے

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے نیا ریکارڈ بنا دیا ،نئی قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گے

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا اور پہلی بار اوسط قیمت 2 پاؤنڈ فی لیٹر کی سطح عبور کرگئی، جس کے بعد گاڑیوں کے مالکان، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری شعبے پر ایندھن کے اخراجات کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

آر اے سی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2 اکتوبر کو برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 200.01 پنس فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ 55 لیٹر کی عام فیملی کار کی ڈیزل ٹینکی مکمل بھرنے پر تقریباً 110.01 پاؤنڈ خرچ ہورہے ہیں۔ یہ رقم فروری کے اختتام کے مقابلے میں تقریباً 31.70 پاؤنڈ زیادہ ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اس عرصے کے دوران تقریباً 40.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تازہ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق 3 اکتوبر کو بھی برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 200.2 پنس فی لیٹر رہی، جبکہ پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 174.9 پنس فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرز، ڈیلیوری کمپنیوں اور ایسے کاروبار متاثر ہورہے ہیں جن کے اخراجات میں گاڑیوں اور ایندھن کا نمایاں حصہ شامل ہے۔ آر اے سی کے مطابق ایک اوسط ڈیزل کار سے سالانہ 10 ہزار میل سفر کرنے والے ڈرائیور کے ایندھن کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی، چاندی بھی سستی ہوگئی

دوسری جانب روس نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کے لیے ممکنہ ریلیف کا عندیہ دیا ہے۔ روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ روس کی مقامی ڈیزل مارکیٹ اس وقت متوازن ہے اور ملک میں طلب پوری کرنے کے لیے ایندھن موجود ہے۔ تاہم اگر ڈیزل کی پیداوار ملکی طلب سے زیادہ ہوگئی تو برآمدی پابندی میں جزوی نرمی پر غور کیا جاسکتا ہے۔

روس نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی اکتوبر کے اختتام تک توسیع دی ہے۔ نوواک کے مطابق حکومت صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہے اور پیداوار میں اضافے کی صورت میں برآمدات جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

روس نے حالیہ عرصے میں مقامی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک ڈیزل کی فروخت محدود کی ہے۔ روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو یوکرین کے ڈرون حملوں سے بھی نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ریفائنریوں کی پیداوار اور ایندھن کی عالمی رسد پر دباؤ بڑھا ہے۔ نوواک نے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے باعث بعض ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصانات میں کمی آئی ہے اور متاثرہ تنصیبات کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

اس صورتحال میں روس کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات جزوی طور پر بحال کرنے کا امکان عالمی منڈی میں اضافی رسد کا باعث بن سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ روس کی مقامی پیداوار اور طلب کی صورتحال سے مشروط ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو پر عائد پابندیاں ختم ہونے تک روس عالمی توانائی مارکیٹ کو اپنا ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔ یوں عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی رسد اور قیمتوں کا معاملہ روس کی برآمدی پالیسی اور بین الاقوامی توانائی صورتحال سے بدستور جڑا ہوا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles