ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر کی ہدایات پر خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کی فراہمی کے عمل میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سال 2025 کے دوران 2 لاکھ 48 ہزار سے زائد خواتین نے مختلف لائسنسنگ سہولیات سے استفادہ کیا، جو خواتین کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور قانونی ڈرائیونگ کی جانب رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ خواتین نے ڈرائیونگ لائسنس بنوائے۔ ان میں سے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد خواتین نے کار کے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیے، جو شہری علاقوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور ٹریفک قوانین سے آگاہی کو ظاہر کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال 61 ہزار خواتین نے موٹر سائیکل کے لائسنس حاصل کیے، جبکہ 1833 خواتین نے لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل (ایل ٹی وی)، 240 خواتین نے رکشہ اور 150 خواتین نے ہیوی کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیے۔
یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین نہ صرف ذاتی بلکہ کمرشل ڈرائیونگ کے شعبے میں بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر کے مطابق خواتین نے مجموعی طور پر موٹر سائیکل کے 86 فیصد اور کار کے 32 فیصد ڈرائیونگ لائسنس بنوائے، جو ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 10 ہزار سے زائد خواتین نے ڈوپلیکیٹ ڈرائیونگ لائسنس جبکہ 77 ہزار سے زائد خواتین نے اپنے لائسنسوں کی تجدید بھی کروائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سال 2025 میں 2 ہزار سے زائد خواتین نے کمرشل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیے، جس کے نتیجے میں خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور معاشی خودمختاری کو فروغ ملا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق خواتین کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پنک وین سروس متعارف کروائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں آبشار اور گوجرانوالہ میں ویمن انکلیو سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں خواتین کو محفوظ اور سہل ماحول میں لائسنسنگ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔