وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی شہری آبادی اور توانائی تنصیبات پر حوثی باغیوں کے بزدلانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کی زد میں آ کر 73 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یمن میں برسرپیکار سعودی عرب کی زیرِ قیادت عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ توانائی کی بعض تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
یہ بھی پڑھیں:یمنی حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنیوالے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں، تاہم حفاظتی اقدامات کے تحت ان تنصیبات پر کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
پاکستان کی غیر متزلزل حمایت
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور برادر سعودی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
I condemn in the strongest terms, the cowardly attack by Houthis targeting civilian and energy facilities in the Kingdom of Saudi Arabia, which have left many people injured.
Pakistan stands in unwavering solidarity with the Custodian of the Two Holy Mosques, His Majesty King…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 8, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملے معصوم جانوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔ ہم مملکت کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں‘۔
اقتصادی اثرات اور عالمی منڈی میں ہلچل
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے معاشی اثرات فوری طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1 ڈالر اضافے کے بعد 98 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی کروڈ کی قیمت 2 ڈالر اضافے سے 93.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
برطانوی مالیاتی اخبار کے مطابق آرامکو کی جازان میں موجود تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
فریقین کے انتباہ اور ممکنہ ردعمل
حوثی باغیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ نے دھمکی دی کہ آنے والے گھنٹوں میں سعودی حدود کے اندر مزید بڑی کارروائیاں کی جائیں گی۔
دوسری جانب عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حوثیوں کے اس اقدام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے اس دہشتگردانہ طرز عمل سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی صدر ٹرمپ، جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا اہم ترین پیغام پہنچا دیا
حوثی باغیوں کی جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے ہیں۔
اس سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں اجتماعی سلامتی، عسکری تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
نیٹو کی طرز پر بنائے گئے اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر جارحیت کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے درمیان عشروں پر محیط اسٹریٹجک، فوجی اور سیاسی تعلقات کو ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی کڑی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ سیکیورٹی منظرنامے کا بغور جائزہ لیا جائے تو حوثی باغیوں کے حالیہ حملے محض اتفاق نہیں بلکہ ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ کے قیام پر ان کا اور ان کے پشت پناہوں کا ایک محتاط لیکن انتہائی جارحانہ ردعمل معلوم ہوتے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد بظاہر اس نئے دفاعی بلاک کو دباؤ میں لانا اور خطے میں اپنی طاقت کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔


