خیبر پختونخوا کی ’مثالی پولیس‘ کی نرسنگ کالج حیات آباد کے طلبہ پر تشدد کی نئی ویڈیو سامنے آگئی

خیبر پختونخوا کی ’مثالی پولیس‘ کی نرسنگ کالج حیات آباد کے طلبہ پر تشدد کی نئی ویڈیو سامنے آگئی

پشاور کے حیات آباد نرسنگ کالج میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس تشدد کی نئی ویڈیو سامنے آگئی، جس میں پولیس اہلکاروں کو طلبہ کو تشدد کا نشانہ بناتے اور گھسیٹتے ہوئے گرفتار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع نرسنگ کالج میں گزشتہ روز طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

احتجاج کے دوران پولیس کارروائی

احتجاج کے دوران پولیس نے طلبہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد طلبہ کو گرفتار کیا، سامنے آنے والی نئی ویڈیو میں پولیس کڑی جانب سے بعض طلبہ کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے

طلبہ کو گھسیٹ کر لے جانے کی ویڈیو

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو نے حیات آباد نرسنگ کالج کے واقعے سے متعلق بحث کو مزید تیز کردیا ہے، ویڈیو میں ایک طالب علم کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے قابو کرکے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دیگر طلبہ بھی پولیس کارروائی کے خلاف آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پشاور ،پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج حیات آبادکے طلبہ کا احتجاج ،پولیس کا لاٹھی چارج،گھیسٹتے ہوئے متعدد طلبا کو گرفتار کیا

’مثالی پولیس‘

خیبر پختونخوا پولیس کو ماضی میں ’مثالی پولیس‘ کے عنوان سے پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم نرسنگ کالج کے طلبہ پر تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کے پی حکومت پر سوشل میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے ،طلبہ کے ساتھ پولیس کے سخت رویے نے پولیسنگ کے طریقہ کار اور پرامن احتجاج کے حق سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

گرفتار طلبہ پر سوالات

واقعے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کے دوران طاقت کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دیگر طریقے اختیار نہیں کیے جا سکتے تھے،طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا جا رہا تھا، تاہم احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔

پولیس کے طرز عمل پر تنقید

واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کے طرز عمل پر تنقید کی جا رہی ہے ،سوشل میڈیا صارفین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور پُرامن طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

editor

Related Articles