پشاور، ملاکنڈ اور ہزارہ کے الگ صوبے بننے چاہئیں، پشاور کے شہریوں کی گفتگو

پشاور، ملاکنڈ اور ہزارہ کے الگ صوبے بننے چاہئیں، پشاور کے شہریوں کی  گفتگو

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پشاور کے شہریوں نے رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام سے عوام کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، انہیں سہولیات میسر آتی ہیں اور ان کے مسائل ان کی دہلیز تک حل ہوتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کو عوامی سہولت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں کے لیے الگ صوبے ہونے سے لوگوں کو اپنے مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔

پشاور کے شہریوں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے گفتگو اس وقت سامنے آئی جب ان سے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت اور اس کے ممکنہ فوائد کے بارے میں رائے لی گئی۔ شہریوں کی گفتگو میں بنیادی طور پر عوامی ضرورت، سہولت اور اپنے علاقوں کے مسائل کے جلد حل کو اہم قرار دیا گیا۔

عوام کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو نئے صوبوں میں کوئی حرج نہیں، شہری

ایک شہری نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے ضرور بنانے چاہئیں، کیونکہ اگر اس کی ضرورت عوام کو ہے اور اس کے ذریعے عوام کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر علاقے کے لوگوں کی اپنی ضرورت اور اپنے مسائل ہیں۔ ان کے مطابق ملاکنڈ کا اپنا صوبہ، پشاور کا اپنا صوبہ اور ہزارہ کا اپنا صوبہ ہونا چاہیے۔

شہری نے واضح الفاظ میں کہا کہ نئے صوبے بننے چاہئیں اور اس کا فائدہ براہ راست عوام کو ہوگا۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں کی اپنی ضروریات کے پیش نظر الگ صوبوں کا قیام عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے لسانی یا قومیتی نہیں،انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں،اویس لغاری

نئے صوبوں سے عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی

ایک اور شہری نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا چاہیے اور وہ اس کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام لوگوں کی سہولت کے لیے ہے اور اس سے عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ آئین نئے صوبوں کے قیام کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا کی اسمبلی، اس کے بعد قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ کے مرحلے سے یہ معاملہ آگے بڑھے تو ان کے خیال میں کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

شہری کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں آئینی اور قانونی طریقہ کار کو اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ اس عمل کو باقاعدہ طریقے سے آگے بڑھایا جاسکے۔

پشاور اور ملاکنڈ کے اپنے مسائل، الگ صوبوں سے کام جلد ہوں گے

پشاور کے ایک شہری نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ مشورہ ٹھیک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور کو اپنا صوبہ بنانا اچھا ہوگا۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں عام شہریوں کو درپیش رسائی کے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پشاور الگ صوبہ ہوگا تو غریب لوگ اپنے نمائندے کے پاس جاسکیں گے اور اپنا مطالبہ پیش کرسکیں گے۔

شہری نے کہا کہ ملاکنڈ کے لوگوں کے اپنے نمائندے اور اپنا علاقہ ہوگا، جہاں وہ اپنی جگہ پر اپنا مطالبہ پیش کرسکیں گے۔ ان کے مطابق اس صورت میں ملاکنڈ کے لوگوں کے کام بھی جلد ہوں گے اور پشاور کے لوگوں کے کام بھی جلد ہوں گے۔

ان کے خیال میں الگ صوبوں کے قیام سے مختلف علاقوں کے لوگوں کو اپنے مسائل اور مطالبات متعلقہ نمائندوں تک پہنچانے میں زیادہ سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مینز جونیئر ایشیا کپ 2026: پاکستان کی کامیابیوں کاسفر جاری، ملائیشیا کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچ گیا

عوام کو ان کا حق دہلیز تک پہنچنا چاہیے

ایک اور شہری نے بھی ملک میں مزید صوبوں کے قیام کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید صوبے بننے چاہئیں اور اگر اس کے ذریعے عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز تک پہنچایا جاتا ہے تو ان کے خیال میں اس میں کوئی ایسی برائی نہیں ہے۔

پشاور کے شہریوں کی گفتگو میں مختلف انداز سے ایک ہی بنیادی نکتہ سامنے آیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے اگر عوام کو سہولت ملتی ہے، ان کے مسائل جلد حل ہوتے ہیں اور انہیں اپنے مطالبات متعلقہ نمائندوں تک پہنچانے میں آسانی ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام میں کوئی حرج نہیں۔

شہریوں نے ملاکنڈ، پشاور اور ہزارہ سمیت مختلف علاقوں کی اپنی ضروریات اور مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر علاقے کے لوگوں کے لیے اپنے مسائل کے حل تک رسائی اہم ہے۔

ایک شہری نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار پر عملدرآمد کو بھی ضروری قرار دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مراحل سے گزرنے کے بعد اس معاملے کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

Related Articles