وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متعلق غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے طاقتور ترین وزیر ہیں اور کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی بظاہر وزیر داخلہ ہیں تاہم وہ روایتی انداز میں حکومتی نظام کا حصہ دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی محسن نقوی کی شرکت نہایت محدود رہی ہے اور انہوں نے انہیں صرف دو یا تین مرتبہ ہی کابینہ اجلاس میں دیکھا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ محسن نقوی پارلیمنٹ میں بھی بہت کم آئے ہیں اور ان کی پارلیمانی حاضری بھی محدود رہی ہے۔ ان کے بقول محسن نقوی شاید صرف سات یا آٹھ مرتبہ ہی پارلیمنٹ میں آئے ہوں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر اتنے بااختیار وزیر کو بھی شکایات ہیں تو پھر حکومت کے دیگر وزراء کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر محسن نقوی شکایت کر رہے ہیں تو پھر ہمیں تو گھر چلے جانا چاہیے۔
وزیر دفاع کے اس بیان کو حکومتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ انہوں نے پہلی مرتبہ کھل کر وفاقی وزیر داخلہ کے اختیارات کابینہ میں کردار اور حکومتی ڈھانچے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
خواجہ آصف کے اس بیان پر تاحال وزیر داخلہ محسن نقوی یا وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان حکومتی صفوں کے اندر اختیارات، فیصلہ سازی اور انتظامی امور سے متعلق جاری بحث کو مزید تقویت دے سکتا ہے