پٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے منافع کا مارجن نہ بڑھانے کی صورت میں ملک بھر میں پٹرول پمپ بند کرنے کی ایک بار پھر دھمکی دے دی ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سمیع خان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث ڈیلرز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، تاہم ان کا منافع وہی پرانا ہے جس سے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مارجن انتہائی کم ہے اور موجودہ حالات میں اس پر پٹرول پمپ چلانا ممکن نہیں رہا۔ اگر فوری طور پر مارجن میں اضافہ نہ کیا گیا تو ڈیلرز پٹرول پمپ بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر پمپ بند کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما ہمایوں خان نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کیا جا رہا ہے، مگر ڈیلرز کے مارجن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جس سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ڈیلرز کے مسائل حل نہ کیے تو پٹرول پمپ بتدریج بند ہونا شروع ہو جائیں گے، جس کے اثرات عوام اور معیشت دونوں پر پڑیں گے۔
ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر فوری طور پر مارجن میں اضافہ کیا جائے تاکہ پٹرول پمپوں کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔