مسلم لیگ ن نے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا،نواز شریف

مسلم لیگ ن نے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا،نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی زیر صدارت مری میں آزاد کشمیر کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، وزارت عظمیٰ کے امیدوار اور مخصوص نشستوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے آزاد کشمیر اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے نام پر بھی غور کیا گیا،میڈیارپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہیں، جبکہ طارق فاروق، کرنل (ر) وقار اور راجہ فاروق حیدر بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے حتمی فیصلے کا اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے ، آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے اہم معاملات پر نواز شریف کی منظوری کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

مخصوص نشستوں کی فہرست

اجلاس سے قبل مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست بھی نواز شریف کو ارسال کی گئی، خواتین کی نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام شامل ہیں۔

ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے راجہ شاداب سکندر، علماء و مشائخ کی نشست کے لیے پیر مظہر سعید جبکہ اوورسیز کی مخصوص نشست کے لیے راجہ محمد جاوید کا نام فائنل کیے جانے کا امکان ہے، ان امیدواروں کی حتمی منظوری بھی نواز شریف دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 17 کا انتخابی نتیجہ جاری نہ ہو سکا،

 نواز شریف کا خطاب

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی، آزاد کشمیر کے عوام پنجاب میں ہونے والی ترقی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن نے عوام کے اعتماد کے مطابق کام نہ کیا تو آزاد کشمیر کے لوگ ناراض ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، تاہم انہیں امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے شکایت کا موقع ملے گا، مسلم لیگ ن نے مخالفین کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا ہے اور سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

دو مرحلوں میں کامیابی

نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دونوں مرحلوں میں مسلم لیگ ن کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم اس کامیابی کے بعد پارٹی کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اب عوامی توقعات پوری کرنا اور عملی طور پر ترقیاتی کام کرنا ہوں گے۔

ہر بچے کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ

مسلم لیگ ن کے سربراہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام بالخصوص نوجوان ترقی، جدید تعلیم اور بہتر مواقع چاہتے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کی ضروریات پر توجہ دینا ہوگی۔

نواز شریف نے کہا کہ انتخابات ہارے جاسکتے ہیں لیکن حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، سیاسی عمل میں کامیابی اور ناکامی آتی رہتی ہے، تاہم عوامی خدمت اور بہتر کارکردگی ہی سیاسی جماعتوں کے لیے اصل امتحان ہے۔

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کی مشاورت کے دوران وزارت عظمیٰ اور مخصوص نشستوں کے امیدواروں پر غور کے ساتھ ساتھ آئندہ حکومت کی کارکردگی اور عوامی توقعات کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی۔

editor

Related Articles