فتنۃ الہندوستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی جدید طرز کی سینمیٹک ویڈیو نے تنظیم کو حاصل بیرونی فنڈنگ، تکنیکی معاونت اور لاجسٹک سہولتوں سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ویڈیو میں( جدید ڈرون زومز) مختلف زاویوں سے ریکارڈنگ، ہائی ڈیفینیشن کوریج اور سینمیٹک ایڈیٹنگ دکھائی دیتی ہے، ان مناظر کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سرگرم ایک دہشتگرد تنظیم جدید فلم بندی کے آلات، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر وسائل تک کس طرح رسائی حاصل کر رہی ہے؟
امریکی ساختہ اسلحے کی موجودگی
جاری کردہ ویڈیو میں افغان طالبان کے زیر استعمال یا ان سے حاصل کیے گئے امریکی ساختہ ہتھیار بھی دکھائے گئے ہیں،اس سے قبل خودکش حملہ آور شہناز کے مہنگے سازوسامان اور جدید ہتھیاروں پر مبنی پروپیگنڈا ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے، جس نے تنظیم کی مالی اور تکنیکی استعداد سے متعلق سوالات کو مزید تقویت دی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے حوالے سےکہا گیا ہے کہ افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے مسلسل خطرہ ہے فراہم کردہ معلومات کے مطابق فتنۃ الہندوستان کے ارکان کو افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں کی جانب سے فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ تربیت دی گئی۔
اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان
سیگاررپورٹ کے مطابق 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے وقت تقریباً 7 ارب 10 کروڑ ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑا گیا تھا، مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آتا رہا ہے کہ اس سامان کا کچھ حصہ بعد میں طالبان اور دیگر مسلح گروہوں تک پہنچا۔
خطے کے امن کو خطرہ
افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں، جدید ہتھیاروں اور بیرونی معاونت کا امتزاج خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،فراہم کردہ مؤقف کے مطابق فتنۃ الہندوستان بلوچستان میں حقوق کی تحریک کے بجائے بیرونی ایجنڈے اور مبینہ مالی و تکنیکی معاونت کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔