اسلام آباد میں محرم الحرام سے متعلق پہلی بار ایپ متعارف

اسلام آباد میں محرم الحرام سے متعلق پہلی بار ایپ متعارف

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، مجالس اور جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں سیکیورٹی کے مجموعی انتظامات، ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد اور جدید تکنیکی وسائل کے استعمال سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران کسی بھی شرپسندی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

جدید ٹیکنالوجی اور ڈرونز سے ڈیجیٹل نگرانی

وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں پہلی بار سیکیورٹی کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ترین ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

 اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کے تمام حساس علاقوں، امام بارگاہوں، مجالس کے مقامات اور ماتمی جلوسوں کے روٹس کی ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی اور ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:محرم الحرام : لاہور میں فول پروف سکیورٹی انتظامات، 4ہزار مجالس کی مانیٹرنگ، ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات

یہ ڈرونز براہِ راست سیف سٹی کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے، جہاں سے لمحہ بہ لمحہ کی صورتحال کو مانیٹر کیا جائے گا تاکہ کسی بھی مشکوک حرکت پر فوری ایکشن لیا جا سکے۔

4 درجاتی حصار اور سخت چیکنگ کے احکامات

وزیر داخلہ محسن نقوی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام اہم مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے 4 درجاتی سکیورٹی حصار (فور ٹیر سکیورٹی) قائم کیا جائے۔

جلوسوں اور امام بارگاہوں کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت ترین چیکنگ کی جائے گی اور واک تھرو گیٹس سمیت جدید اسکینرز کا استعمال کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے تاکید کی کہ امن و امان کی فضا کو ہر حال میں برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور مروجہ امن کمیٹیوں سے قریبی اور مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

‘محفوظ محرم’ ایپ کا اِجرا اور لائیو لوکیشن کی سہولت

اس سال کی سب سے بڑی اور منفرد پیش رفت دارالحکومت کی تاریخ میں پہلی بار ایک خصوصی موبائل ایپلیکیشن ’محفوظ محرم‘ کی تیاری ہے۔

اس ایپ کے ذریعے عام شہریوں کو سکیورٹی کے عمل میں براہِ راست شامل کیا گیا ہے۔ شہری کسی بھی مشتبہ شخص، مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی کے نامکمل انتظامات کی فوری اطلاع انتظامیہ کو دے سکیں گے۔

ایپ کے اندر شہریوں کو لائیو لوکیشن اور امیج شیئرنگ (تصاویر بھیجنے) کی سہولت بھی دی گئی ہے، جس کی مدد سے کنٹرول روم فوری طور پر مطلوبہ جگہ پر پولیس فورس روانہ کر سکے گا۔ تمام تر نگرانی کے لیے سیف سٹی اسلام آباد میں ایک مرکزی اور ہائی ٹیک کنٹرول روم فعال کر دیا گیا ہے۔

محرم الحرام اور سیکیورٹی چیلنجز

پاکستان میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ہمیشہ سے ایک حساس اور بڑا چیلنج رہی ہے۔ ماضی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں محرم کے جلوسوں کے دوران امن و امان کے مسائل اور شرپسندی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:اہلِ تشیع کمیونٹی کی محرم الحرام کے تقدس کے پیشِ نظر عوامی ایکشن کمیٹی سے احتجاجی سرگرمیاں مؤخر کرنے کی اپیل

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماضی میں موبائل سروسز کی بندش اور دفعہ 144 جیسے روایتی طریقے اپنائے جاتے تھے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشتگردی کے خطرات کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت نے اب روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ سمارٹ پولیسنگ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو ترجیح دی ہے تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو محدود کیے بغیر سکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔

Related Articles