گولڈ میڈل جیتنے والے ریسٹورنٹ کا66 سال پرانے تیل میں چکن بنانے کاانکشاف

گولڈ میڈل جیتنے والے ریسٹورنٹ کا66 سال پرانے تیل میں چکن بنانے کاانکشاف

جاپان کے ایک مشہور فرائیڈ چکن ریسٹورنٹ نے اپنے منفرد ذائقے کا راز بتا کر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

جاپان فرائیڈ چکن گراں پری میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے ریسٹورنٹ واکاٹوری کے مالک یوشی ہیرو تسوچیا نے بتایا کہ ان کے مشہور چکن کا خاص ذائقہ ایک ایسے طریقے کی وجہ سے ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

ریسٹورنٹ کے تیسرے نسل کے مالک کے مطابق 1960 میں کاروبار شروع ہونے کے بعد سے فرائنگ آئل کو مکمل طور پر ضائع نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانے تیل کی معمولی مقدار نئے تیل میں شامل ہونے سے چکن کو ایک منفرد خوشبو اور ذائقہ ملتا ہے جو عام تیل سے ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پانی نکالنے کی قیمت، زمین کا محور بھی تبدیل ہونے لگا

اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا صارفین میں بحث شروع ہو گئی۔ کچھ افراد نے 66 سال پرانے تیل کے استعمال پر صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

تاہم ریسٹورنٹ انتظامیہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہائیوں پرانا تیل اسی حالت میں استعمال نہیں کرتے۔ ہر رات تیل کو فلٹر کیا جاتا ہے تاکہ گوشت کے ذرات اور دیگر آلودگیاں دور ہو جائیں، جبکہ صرف تھوڑی مقدار میں پرانے تیل کو ذائقے کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے اور اسے تازہ تیل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :قرض اتارنے کا انوکھا طریقہ،,پولیس نے چند گھنٹوں میں راز کھول دیا

انتظامیہ کے مطابق اس مسلسل عمل کی وجہ سے ممکن ہے کہ 1960 میں استعمال ہونے والے اصل تیل کے چند اجزا آج بھی موجودہ آمیزے کا حصہ ہوں، لیکن روزانہ استعمال ہونے والا زیادہ تر تیل نیا ہوتا ہے۔

ریسٹورنٹ کا کہنا ہے کہ یہی منفرد طریقہ اس کے فرائیڈ چکن کو خاص بناتا ہے، جس کی وجہ سے “واکاٹوری” جاپان کے نمایاں فرائیڈ چکن ریسٹورنٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔

editor

Related Articles