امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی ہوئی جس کے بعد برینٹ خام تیل 79.44 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے جس سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات بھی کم ہوئے ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت نے مارکیٹ کے رجحان کو تبدیل کر دیا ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکا اور ایران مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حتمی امن اور تعاون کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ کی منظوری بھی دے دی گئی ہے جس کے تحت مختلف تکنیکی اور سفارتی امور پر مرحلہ وار پیش رفت کی جائے گی۔
اگر مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں اور خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے جس کا براہِ راست فائدہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ہوگا۔
پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک اس صورتحال کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے سے درآمدی بل میں کمی اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔