ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے 14 ستمبر سے ‘نادرا’ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کا اطلاق خصوصی طور پر عمرہ زائرین سمیت تمام مسافروں پر ہوگا۔
ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے نے سفری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اب کوئی بھی مسافر مطلوبہ طبی دستاویزات کے بغیر بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکے گا۔
خاص طور پر عمرہ ادا کرنے کے لیے حرمین شریفین جانے والے زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی روانگی سے قبل ‘نادرا’ کا منظور شدہ ویکسین کارڈ لازمی حاصل کر لیں۔
اس اہم پیش رفت کے بعد، سول ایوی ایشن حکام نے تمام ایئرلائنز کو سختی سے پابند کیا ہے کہ وہ بورڈنگ پاس جاری کرنے سے قبل عمرہ زائرین اور دیگر مسافروں کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی سو فیصد تصدیق کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
ویکسینیشن کے مراکز اور ایئرپورٹ پر سہولت
سرکاری اعلامیے کے مطابق، بین الاقوامی مسافروں کی ویکسینیشن کے لیے فیڈرل گورنمنٹ سول ڈسپنسری کو واحد اور مستند مرکز قرار دیا گیا ہے۔ مسافروں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل اسی مرکز سے ویکسینیشن کا عمل مکمل کریں۔
سفری اور طبی امور کے ایک تجزیہ کار کی حیثیت سے اس پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ بظاہر مسافروں کے لیے وقتی زحمت کا سبب بن سکتا ہے، لیکن طویل المیعاد بنیادوں پر یہ ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے۔
ایئرپورٹ پر 6 گھنٹے قبل پہنچنے کی شرط ان مسافروں کے لیے یقیناً ایک کڑا امتحان ہوگی جو آخری وقت میں ایئرپورٹ پہنچنے کے عادی ہیں۔
دوسری جانب ایئرلائنز پر سرٹیفکیٹس کی تصدیق کی بھاری ذمہ داری ڈالنے سے چیک اِن کے عمل میں تاخیر کا قوی امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
اس متوقع رش اور تاخیر سے نمٹنے کے لیے ایئرپورٹ انتظامیہ اور ایئرلائنز کو کاؤنٹرز پر اضافی عملے کی تعیناتی یقینی بنانا ہوگی۔
تاہم اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ مستند ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کی موجودگی سے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پاکستانی مسافروں کا دستاویزی عمل شفاف ہوگا، جس سے سفری مشکلات میں مجموعی طور پر واضح کمی آئے گی۔