ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات کی بھیک مانگی ، ایران نے خود کو ناقابلِ شکست طاقت ثابت کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا کہ ایران ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت ہے، مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگر حکام بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے حکام نے کہا کہ ایرانیوں نے معجزہ کر دکھایا، پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
عراقچی نے کہا کہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران اس طرح امریکا کے سامنے مزاحمت کر سکتا ہے، امریکا کو اسرائیل، مغربی دنیا اور بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
عباس عراقچی نے یاد دلایا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صرف دو الفاظ لکھے تھے، “غیر مشروط ہتھیار ڈالنا”، اور امریکا اس وقت ایران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے، لیکن 20 دن بعد یہی دشمن مذاکرات کے لیے منت سماجت کر رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ثابت کیا کہ اس کے خلاف فوجی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا آسان نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔