بی بی سی اردو میں دوہرا معیار؟ مقامی صحافی دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم

بی بی سی اردو میں دوہرا معیار؟ مقامی صحافی دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم

بی بی سی اردو کے پاکستان میں کام کرنے والے ملازمین گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔

ذرائع کے مطابق ادارے کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ مقامی مسائل پر منفی رپورٹنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ملازمین کو پاکستان سے متعلق منفی رپورٹس تیار کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق مالی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد حالیہ دنوں میں بی بی سی کے پاکستان میں کام کرنے والے بعض ملازمین کی جانب سے متعدد منفی خبریں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر کے تما م انٹری پوائنٹس کھلے ہیں، شہری افوہوں پر کان نہ دھریں ، آئی جی آزاد کشمیر

سیاسی تجزیہ کاروں نے بی بی سی کے مقامی ملازمین کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ آپ کا ملک ہے، آپ کی مادرِ وطن ہے۔ اس معیشت میں کروڑوں لوگ روزگار سے وابستہ ہیں، سب کسی غیر ملکی چینل کے غیر ملکی ایجنڈے کی خدمت نہیں کر رہے۔

دوسری جانب وزارتِ اطلاعات و نشریات نے آزاد کشمیر سے متعلق حقائق کے منافی رپورٹ کی اشاعت پر بی بی سی اردو کے خلاف سخت احتجاج کیا اور باضابطہ شکایت بھی درج کروا دی ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق مذکورہ رپورٹ غیر مصدقہ اور غیر تصدیق شدہ الزامات پر مبنی تھی، جبکہ سرکاری حقائق اور متعلقہ حکام کے ریکارڈ پر موجود مؤقف کو نظر انداز کیا گیا۔

وزارت نے اپنے ردعمل میں کہا کہ صحافتی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل اس کی مکمل تصدیق کی جائے، تاہم زیرِ بحث رپورٹ میں اس اصول کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس نوعیت کی رپورٹنگ سامنے آئی ہو، بلکہ غیر مصدقہ دعوؤں کی اشاعت ایک تشویشناک رجحان بنتی جا رہی ہے، جس کے تدارک کے لیے مؤثر اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔

Related Articles