واشنگٹن سے جاری کردہ وائٹ ہاؤس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں 40 سے زیادہ ممالک پر چینی مصنوعات کو اپنے راستے امریکی منڈیوں تک پہنچا کر ٹیرف چوری میں معاونت کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ‘گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم’ کے باعث امریکا کو سالانہ اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکی کسٹمز نے اس کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت اور ‘ڈیٹیکٹو بارڈر’ نظام نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
‘گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم’ کا انکشاف
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ مفصل رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم ٹیرف والے ممالک کو امریکی کسٹمز اور ٹیرف سے بچنے کے لیے بطور ‘حفاظتی کور’ استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکا کا الزام ہے کہ چینی مصنوعات کو پہلے ان تیسرے ممالک میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان پر محض ری لیبلنگ (نیا لیبل لگانا) اور ری پیکنگ کی جاتی ہے تاکہ ان کی اصل شناخت چھپائی جا سکے۔
اس عمل کے بعد سامان کو انہی ممالک کی ساختہ مصنوعات ظاہر کر کے امریکی منڈیوں میں سپلائی کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا سالانہ حجم 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ اس وسیع پیمانے کی تجارتی نادہندگی اور چوری سے نہ صرف امریکا کو سالانہ اربوں ڈالر کے محصولاتی نقصان کا سامنا ہے بلکہ صرف 75 ارب ڈالر کی سالانہ ٹرانس شپمنٹ کی وجہ سے تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار امریکی ملازمتیں بری طرح متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
متاثرہ ممالک کی فہرست اور 2018 کے بعد کے حالات
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرانس شپمنٹ اور ٹیرف چوری کا یہ مسئلہ 2018 کے بعد سے انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے، جب امریکا نے چینی اشیا پر اضافی ٹیرف عائد کیے تھے۔
امریکا کا الزام ہے کہ ٹیرف چوری کی اس فہرست میں بھارت، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم عالمی اور علاقائی تجارتی مراکزی ممالک کے نام شامل ہیں۔ تاہم، اس فہرست کی ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا نام ان نادہندہ یا معاون ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
‘ڈیٹیکٹو بارڈر’ اور مصنوعی ذہانت کا استعمال
ٹرمپ انتظامیہ نے اس ٹیرف چوری کو فوری طور پر روکنے کے لیے کسٹمز نگرانی کو انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مشکوک درآمدات کی فوری نشاندہی کرنے کی خاطر ایک انقلابی ‘ڈیٹیکٹو بارڈر’ نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی کسٹمز ٹیرف چوری کا سراغ لگانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی الگورتھمز سے بھی مدد لے گا۔
یہ خودکار نظام درآمدی سامان کی نقل وحرکت، ان کے سمندری و فضائی راستوں اور اشیا کے اصل ملک سے متعلق معلومات کا لمحہ بہ لمحہ تجزیہ کرے گا تاکہ کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی اور ری پیکنگ کو فوری طور پر پکڑا جا سکے۔
چین کا ردِعمل اور الزامات کی تردید
دوسری جانب، واشنگٹن ڈی سی میں قائم چینی سفارتخانے نے وائٹ ہاؤس کی اس رپورٹ پر سخت عکس العمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ٹیرف اور تجارتی جنگیں کبھی کوئی فاتح پیدا نہیں کرتیں’۔
چینی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ترسیل کردہ اشیا پر یکطرفہ پابندیوں یا اقدامات کے ذریعے ‘تھرڈ پارٹی’ کے مفادات کو ہرگز ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔
چینی حکام نے مزید واضح کیا کہ بیجنگ چینی اشیا کو دبانے اور تجارتی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے قومی سلامتی کا جواز پیش کیے جانے اور یکطرفہ ٹیرف کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
چینی سفارتخانے نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو چین اپنے جائز معاشی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گا۔
عالمی سپلائی چین کی تنوع یا تجارتی دھوکہ دہی؟
چینی حکام اور معاشی ماہرین نے امریکا کی جانب سے دھوکے سے تجارت کرنے کے تمام الزامات کو سراسر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں اگر کمپنیاں اپنے پیداواری مراکز اور سپلائی چین کو مختلف ممالک میں متنوع (ڈائیورسیفائی) کرتی ہیں، تو یہ عالمی تجارت کا ایک بالکل قدرتی اور عام عمل ہے۔ اس تجارتی تنوع کو ٹیرف سے بچنے کی ناجائز کوشش کا رنگ دینا بالکل غیر مناسب اور معاشی حقائق کے منافی ہے۔
اس پورے تنازع کا پس منظر 2018 میں شروع ہونے والی امریکا چین تجارتی جنگ سے جڑا ہوا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں جب چین کی اربوں ڈالر کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف اور کسٹمز ڈیوٹیاں عائد کی گئی تھیں، تو چینی کارخانوں اور عالمی سپلائرز نے امریکا کو سامان بھیجنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔
اس کے نتیجے میں ویتنام، بھارت، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے ذریعے تجارتی نقل وحرکت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
امریکا کا موقف یہ رہا ہے کہ یہ اقدامات اصل پیداواری ملک کو چھپانے اور ٹیرف سے بچنے کا ایک طریقہ ہیں، جبکہ چین اسے عالمی منڈی کی طلب اور رسد کے قدرتی پھیلاؤ سے تعبیر کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی یہ حالیہ رپورٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اب صرف دوطرفہ سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اب کثیر القومی ابعاد اختیار کر لیے ہیں۔
40 سے زیادہ ممالک کو اس دائرے میں گھسیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اب اپنی تجارتی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے سیکنڈری پابندیاں اور کڑی نگرانی کا سہارا لے رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور ‘ڈیٹیکٹو بارڈر’ جیسے جدید تکنیکی اقدامات سے اگرچہ امریکا ٹرانس شپمنٹ کو کم کرنے کی کوشش کرے گا، مگر اس سے عالمی سپلائی چین میں شدید سست روی اور تاخیر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید برآں، بھارت اور امارات جیسے امریکی اتحادیوں کا نام اس فہرست میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اپنے معاشی مفادات کی خاطر سیاسی اتحادوں کو بھی بالائے طاق رکھنے پر تیار ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ تنازع عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی افادیت اور عالمی آزادانہ تجارت کے اصولوں کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔