جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، سیز فائر معاہدے کے بعد یہ مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے بتایا ہے کہ ضلع نبطیہ کے علاقے انصار کے نواح میں گھر پر ہونے والے حملے میں 7 افراد جان کی بازی ہار بیٹھے ، مرنے والوں میں 3 بچے اور 2 خواتین بھی شامل تھیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق دیر الزہرانی قصبے پر ایک اور حملے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور یہ کارروائی اپنے فوجیوں کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا مرنے والے عام شہری تھے، اسرائیل کو کشیدگی بڑھانا بند کرنا چاہیے، ہمارے لوگوں کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر جینے کا حق کسی قسم کی سودے بازی کا موضوع نہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے ایک ہی خاندان کے افراد کی موت اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کیلئے ایک واضح پیغام ہیں۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے، خلاف ورزیاں اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکا سے مذاکرات روک دینگے، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا انتباہ
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور کارروائی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مبینہ کارروائی کے جواب میں کی گئی۔
یاد رہے کہ 19 جون 2026 کو لبنان میں شدید جھڑپوں اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 47 افراد کی اموات کے بعد اسرائیل اور نے لبنان میں سیز فائر پر اتفاق کیا تھا ۔