وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہوگئی ہے، جس کے اثرات ملک کے بڑے شہروں کی منڈیوں میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، ٹرانسپورٹرز نے مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے، گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر نبیل محمود طارق کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہیں اور اہم مطالبات پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا طریقہ کار ختم کرنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آج اہم اجلاس طلب
گڈز ٹرانسپورٹرز کے عہدیداران نے ہڑتال کے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں حکومتی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور آئندہ کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے گا،ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال جاری رکھنے یا احتجاج کا دائرہ مزید بڑھانے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔
لاہور میں مال بردار گاڑیوں کی آمد کم
ہڑتال کے باعث لاہور کی بڑی منڈیوں میں مال بردار گاڑیوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق شہر میں روزانہ آنے والی مال بردار گاڑیوں کی تعداد 100 سے کم ہو کر تقریباً 10 رہ گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث سبزیوں، آٹے اور دالوں سمیت مختلف اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہےتاہم لاہور میں منی مزدا ایسوسی ایشن نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
پشاور میں آٹا مہنگا
پشاور میں بھی ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے اثرات اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر نظر آنے لگے ہیں، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 150 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 3 ہزار 150 روپے تک پہنچ گیا ہے،دالوں کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جس سے شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔
پیاز اور مرغی مہنگی
کوئٹہ میں بھی ہڑتال کے باعث اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ پیاز کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے،مرغی کی قیمت میں بھی 50 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مرغی 550 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی ہے۔
کراچی میں متبادل انتظام
کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باوجود چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے سبزیوں کی ترسیل جاری ہے،مقامی سطح پر چھوٹی گاڑیوں کا استعمال کرکے منڈیوں تک اشیائے خورونوش پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہےتاہم اگر ہڑتال مزید طول پکڑتی ہے تو سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برآمدی شعبہ بھی متاثر
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے اثرات صرف مقامی منڈیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ملکی برآمدی شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہوگیا ہے،برآمد کنندگان کو تیار مصنوعات فیکٹریوں اور گوداموں سے بندرگاہوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے، جس سے برآمدی سامان کی ترسیل اور سپلائی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
غیر معینہ مدت تک ہڑتال
گڈز ٹرانسپورٹرز کے صدر نبیل محمود طارق کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہیں کرتی، ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی،ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا موجودہ طریقہ کار ٹرانسپورٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور حکومت کی جانب سے اس نظام کو ختم کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی گئی۔
اسی وجہ سے گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ آج ہونے والے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کیے جانے کا امکان ہے۔