راولاکوٹ میں فائرنگ کے واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک بیانیے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک قرار دیے جانے والے ایک اکاؤنٹ کی پوسٹ اور بعد ازاں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے واٹس ایپ گروپس میں وہی بیانیہ گردش کرنے لگا جس سے کالعدم ایکشن کمیٹی اور بھارتی ایجنسی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا ۔
پہلے ٹویٹ، پھر گروپس میں بیانیہ
مذکورہ اکاؤنٹ نے رات 8 بجے راولاکوٹ میں فائرنگ کے حوالے سے ٹویٹ کی، جبکہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد یہی بیانیہ عوامی ایکشن کمیٹی کے واٹس ایپ گروپس میں گردش کرتا دکھائی دیا۔
وقت اور متن کی مماثلت
معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے اکاؤنٹ سے سامنے آنے والے مؤقف کے تقریباً 90 منٹ بعد اسی نوعیت کا بیانیہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے گروپس میں بھی شیئر کیا گیا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی بیانیے کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتے ہوئے پوسٹ کے وقت، متن، شیئرنگ کے ریکارڈ اور اکاؤنٹس کے باہمی روابط اہم شواہد تصور کیے جاتے ہیں۔
راولاکوٹ فائرنگ کے واقعے سے متعلق سامنے آنے والی یہ ٹائمنگ متن دیکھ کر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ حقوق کا راگ الاپنے والی انتشاری کمیٹی اور بھارتی ایجنسی کے درمیان تعلق موجود ہے اس سے قبل بھی اس طرح کے متعدد ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔