بھارت کی ریاست اترپردیش میں ایک بیوہ خاتون کے ساتھ اس وقت ہوشربا انکشاف ہوا جب انہیں معلوم ہوا کہ سال 2003 سے بینک کے لاکر میں امانت رکھے گئے 50 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات غائب ہو چکے ہیں۔
اس سنگین واقعے نے ایک بار پھر مالیاتی اداروں کی سیکیورٹی اور صارفین کے تحفظ پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
بھارتی میڈیا کے مطابق 55 سالہ رشمی اروڑہ نامی خاتون کو اس وقت شدید ذہنی دھچکا لگا جب انہوں نے اپنے بینک لاکر کا رخ کیا اور اسے خالی پایا۔
یاد رہے کہ رشمی اروڑہ نے اپنے شوہر کے ہمراہ 26 فروری 2003 کو اسٹیٹ بینک آف ٹراوانکور میں ایک بچت کھاتہ کھلایا تھا، جس کے عوض انہیں لاکر نمبر 23 الاٹ کیا گیا تھا۔
اس جوڑے نے اپنی زندگی بھر کی پونجی اور قیمتی اثاثے یعنی تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات اسی لاکر میں محفوظ کیے تھے، یہ سوچ کر کہ بینک سے زیادہ محفوظ جگہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔
فاصلے کی مجبوری اور حالات کا پلٹا
وقت کے پہیے نے گردش کی اور شوہر کے انتقال کے بعد رشمی اروڑہ کانپور سے اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ رہنے کے لیے لکھنؤ منتقل ہو گئیں۔
شہر بدلنے اور بڑھتی ہوئی عمر کے فاصلے کی وجہ سے ان کا بینک آنا جانا کم ضرور ہو گیا تھا، لیکن ان کے دل میں ذرا برابر بھی خوف یا شک نہیں تھا کیونکہ وہ مطمئن تھیں کہ ان کا سرمایہ کسی قلعے کی طرح محفوظ ہاتھوں میں بند ہے۔
مگر جب انہوں نے طویل عرصے بعد حقیقت کا سامنا کیا تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ لاکر میں رکھی ہوئی دولت ہوا ہو چکی تھی۔
بینک لاکرز کی حفاظت پر بڑھتے ہوئے خدشات
بھارت سمیت دنیا بھر کے بینکوں میں لاکرز کو ہمیشہ سے سب سے محفوظ ترین مقام مانا جاتا ہے جہاں لوگ اپنے خاندان کے ورثے اور قیمتی زیورات تالا لگا کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔
لیکن حالیہ چند برسوں میں بینک لاکرز سے چوری، غبن اور زیورات غائب ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اکثر اوقات بینک انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے یہ کہہ کر مبرا ہو جاتی ہے کہ انہیں لاکر کے اندر موجود سامان کی فہرست کا کوئی علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے اپنے ہی حق کے لیے قانونی جنگ لڑنا ایک بھیانک خواب بن جاتا ہے۔
کیا بینک صارفین کا اعتماد اب ختم ہو رہا ہے؟
یہ واقعہ صرف ایک فرد کا المیہ نہیں ہے بلکہ یہ اس پورے نظام کی خرابی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس پر عام آدمی آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتا ہے۔ جب ایک بینک کے اندر اتنی سخت سیکیورٹی اور دو چابیوں کے نظام کے باوجود لاکر سے لاکھوں کا سونا غائب ہو جائے، تو اس میں اندرونی عملے کی ملی بھگت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اگر بینک ہی غیرمحفوظ ہو جائیں گے تو عوام اپنی جمع پونجی کہاں سنبھالیں گے؟ اس واقعے کے بعد نہ صرف متعلقہ بینک کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت بے نقاب ہوتی ہے بلکہ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بینک لاکرز کے قوانین کو سخت کریں تاکہ کوئی بھی بینک عملہ یا مافیا کسی کی امانت پر یوں ہاتھ صاف نہ کر سکے۔