عالمی برادری فوری طور پر فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے، پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ

عالمی برادری فوری طور پر فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے، پاکستان کا عالمی برادری سے مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مقبوضہ مغربی کنارے کی تشویشناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے فوری عملی اقدامات اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات کا مقصد فلسطینی سرزمین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور ناجائز قبضے کو مستقل بنانا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو بھرپور انداز میں بلند کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے اہم خطاب کے دوران واضح کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حالات کسی بھی طرح تسلیم کرنے کے قابل نہیں ہیں اور یہ تیزی سے ایک بڑے انسانی المیے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تنازع کشمیر اور فلسطین کا حل ناگزیر، پاکستان کا اقوام متحدہ میں دو ٹوک مؤقف پیش

انہوں نے عالمی سلامتی کونسل کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ محض زبانی جمع خرچ کے بجائے زمینی حقائق کا نوٹس لیا جائے اور فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔

اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات اور آبادکاری کا جنون

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی آبادکاری اب تشویشناک اور خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مذموم سرگرمیوں کا اصل مقصد فلسطین کے طول و عرض پر اپنے ناجائز قبضے کو مزید مستحکم کرنا اور دیگر علاقوں میں نئی بستیاں بساکر فلسطینی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو فوری طور پر روکنے اور اس میں ملوث تمام ذمہ دار عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا پرزور مطالبہ کیا۔

مسجد اقصیٰ کی حرمت اور یونیسیف کی سفارشات پر عملدرآمد

عاصم افتخار نے مقدس مقام مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز اور عناصر کی طرف سے کی جانے والی مسلسل اشتعال انگیز کارروائیوں پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلمانوں کے اس مقدس ترین مقام کی حرمت پامال کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

 اس کے علاوہ، انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ‘یونیسیف’ کی سفارشات پر ہو بہو اور فوری عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ معصوم بچوں کو جاری بربریت سے بچایا جا سکے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کا المیہ اور عالمی مجرمانہ خاموشی

مقبوضہ مغربی کنارے میں دہائیوں سے جاری اسرائیلی جارحیت اور جبری بے دخلی کا سلسلہ آج بھی پوری شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔

حالیہ برسوں اور مہینوں میں اس خطے میں پرتشدد واقعات، نئی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کی رفتار میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود قابض حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے، جبکہ مغربی ممالک کی مجرمانہ خاموشی اور دوہرے معیار نے مظلوم فلسطینیوں کے مسائل میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

 ایسے کٹھن حالات میں پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

کیا عالمی ادارے اب بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا پائیں گے؟

پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا یہ موثر قدم نہ صرف پاکستان کی روایتی فلسطین نواز پالیسی کا تسلسل ہے بلکہ یہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ایک کڑی بھی ہے۔

جب تک سلامتی کونسل اور عالمی طاقتیں اسرائیل کے ان غیر قانونی اقدامات پر اسے کٹہرے میں نہیں کھڑی سکتیں، تب تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب محض سراب ہی رہے گا۔

مزید پڑھیں:پاکستان، فلسطینی طلبہ کی امیدوں کا مرکز، 38 نوجوان ڈاکٹرز بی ڈی ایس مکمل کرکے واپس وطن روانہ

آبادکاروں کا ریاستی پشت پناہی میں تشدد اور مقدس مقامات کی بے حرمتی اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے۔

اب یہ عالمی برادری اور سلامتی کونسل کا امتحان ہے کہ وہ دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھاتے ہیں یا یونہی تماشائی بنے رہتے ہیں۔

Related Articles