آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ایک بار پھر متاثر کرنا شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے بحری راستوں کے تعین اور ان کے انتظام سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں تاہم آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا معاملہ اب بھی وسیع تر سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا براہ راست اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بدھ، 12 اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 89.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 83.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث برینٹ خام تیل 84 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا تھا۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آبنائے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کب مکمل طور پر بحال ہوتی ہے اور خطے میں کشیدگی کس حد تک کم ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کے ممالک سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل کے لیے اس راستے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
اسی وجہ سے آبنائے میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا سکیورٹی خدشات بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات، انشورنس پریمیم اور توانائی کی سپلائی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کا معاملہ صرف ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے انتظام تک محدود نہیں۔ تہران کی جانب سے اس معاملے کو امریکا کے ساتھ جاری وسیع تر تنازع اور خطے میں بحری سرگرمیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کے حوالے سے امریکی اقدامات میں تبدیلی کے بغیر آبنائے کی مکمل اور معمول کی بحالی مشکل ہوسکتی ہے۔
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ تہران کی شرائط اور امریکا کے ساتھ ہونے والی پیش رفت سے منسلک ہے۔