بجلی صارفین کے لیے آج اہم پیش رفت ہونے جارہی ہے نیپرا میں اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوگی جس میں بجلی کی قیمت میں اضافے کے مطالبے کا جائزہ لیا جائے گا۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے 23 ارب روپے سے زائد کی وصولی کے لیے مثبت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ مانگی ہے۔ درخواست میں تقریباً ایک روپے فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم یہ اضافہ ابھی حتمی نہیں، بلکہ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے نیپرا کو دی گئی درخواست ہے۔
آج کی سماعت میں نیپرا متعلقہ اداروں کے مؤقف، بجلی کی خریداری اور دیگر اخراجات سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لے گا جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ صارفین پر کتنا بوجھ منتقل کرنا ہے۔
صارفین کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جنوری سے مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملنے والا 1.99 روپے فی یونٹ ریلیف بھی رواں ماہ ختم ہونے جارہا ہے۔ اس ریلیف کی مدت ختم ہونے کے بعد اپریل تا جون کی نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ستمبر سے لاگو ہونے کا امکان ہے۔
یعنی ستمبر کے بجلی بلوں پر دو طرف سے اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایک طرف موجودہ 1.99 روپے فی یونٹ ریلیف ختم ہوگا جبکہ دوسری جانب نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت تقریباً ایک روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا کے سامنے موجود ہے۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے مطابق اپریل، مئی اور جون 2026 کے حسابات کی بنیاد پر مجموعی طور پر 23 ارب روپے سے زائد کی مثبت ایڈجسٹمنٹ درکار ہے۔ اگر نیپرا درخواست منظور کرتا ہے تو اس رقم کی وصولی بجلی صارفین سے فی یونٹ اضافے کی صورت میں کی جاسکتی ہے۔
تاہم صارفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک روپے فی یونٹ اضافہ حتمی نہیں ہے۔ نیپرا سماعت کے دوران درخواست کا جائزہ لے کر اضافہ مکمل طور پر منظور، جزوی طور پر منظور یا اس میں مزید ردوبدل کرسکتا ہے۔
آج کی سماعت کے بعد ستمبر کے بجلی بلوں سے متعلق صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ اگر نیپرا نے تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست منظور کرلی تو ریلیف کے خاتمے کے ساتھ نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بھی صارفین کے بلوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے۔
یوں بجلی صارفین کی نظریں آج نیپرا کی سماعت پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کارروائی کے بعد یہ اندازہ مزید واضح ہوجائے گا کہ ستمبر سے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ کتنا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔