پاکستانی شہریوں کے لیے امریکی وزٹ ویزا سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق امریکا کی جانب سے یکم اگست 2026 سے نافذ کیے گئے نئے وزٹ ویزا بونڈ پروگرام میں پاکستان شامل نہیں ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اہل پاکستانی درخواست گزاروں کو بی 1 بزنس یا بی 2 ٹورسٹ ویزا کے لیے اس پالیسی کے تحت 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر تک قابل واپسی بونڈ جمع نہیں کرانا ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے یہ پروگرام تقریباً 50 ممالک کے منتخب ویزا درخواست گزاروں کے لیے متعارف کرایا ہے۔ متعلقہ قونصلر افسر درخواست گزار کی صورتحال اور دیگر عوامل کی بنیاد پر بونڈ کی رقم 10 ہزار، 15 ہزار یا 20 ہزار ڈالر مقرر کرسکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت بھی اس فہرست میں شامل نہیں، جبکہ بنگلہ دیش اور نیپال ان ممالک میں شامل ہیں جن کے بعض شہریوں پر یہ شرط لاگو ہوسکتی ہے۔
اس پروگرام کے تحت جمع کرایا جانے والا بونڈ قابل واپسی ہوگا، بشرطیکہ مسافر اپنے ویزا کی تمام شرائط کی پابندی کرے اور مقررہ مدت کے اندر امریکا سے واپس چلا جائے۔
تاہم ویزا پالیسیوں میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے پاکستانی درخواست گزاروں کو سفر یا ویزا درخواست سے قبل امریکی حکومت کے سرکاری ذرائع سے تازہ ترین معلومات کی تصدیق کرنی چاہیے۔ یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور اسے قانونی یا امیگریشن مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔