ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، زمین لرز اٹھی

ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، زمین لرز اٹھی

بلوچستان کے ضلع دالبندین اور بعض دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.0 ریکارڈ کی گئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 35 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز دالبندین سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں بتایا گیا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بعض افراد گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ سے بھی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری اقدامات کیے جاسکیں۔

حکام کے مطابق زلزلے کے بعد متاثرہ علاقے میں صورتحال معمول کے مطابق ہے تاہم کسی بھی ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر نگرانی جاری رکھی جارہی ہے۔ شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق اچھی خبر، تجویز وزیر اعظم کے پاس پہنچ گئی

دالبندین میں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد خطے میں زلزلہ کی سرگرمی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے تاہم ماہرین کے مطابق صرف زلزلے کی شدت دیکھ کر اس کے ممکنہ نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ نقصان کا انحصار زلزلے کی گہرائی مرکز سے فاصلے، مقامی زمین کی ساخت اور عمارتوں کی مضبوطی سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔

دریں اثنا، اسی روز بین الاقوامی سطح پر بھی ایک طاقتور زلزلے نے توجہ حاصل کی۔ انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں فلورس جزیرے کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ رپورٹ ہوا جس کے بعد متعدد آفٹر شاکس محسوس کیے گئے اور حکام نے عارضی طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی۔

رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے متاثرہ علاقوں میں شہریوں نے احتیاطاً محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی جبکہ بعض علاقوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچنے، لینڈ سلائیڈنگ اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد ازاں سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی۔

دالبندین کا زلزلہ شدت کے اعتبار سے انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے سے بہت کم تھا تاہم بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال کی نگرانی جاری ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کری

Qaisar Mirza
editor

Related Articles