عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی جسم میں کئی قدرتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن میں دماغ اور خون کے درمیان موجود حفاظتی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ نظام دماغ کو خون میں موجود نقصان دہ مادوں اور بعض جراثیم سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس حفاظتی نظام کو خون دماغی رکاوٹ، کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ کی خون کی شریانوں کے گرد موجود خلیات اور بافتوں سے مل کر بنتی ہے اور اس بات کو کنٹرول کرتی ہے کہ خون سے کون سے مادے دماغ کے اندر داخل ہوسکتے ہیں اور کون سے نہیں۔
عمر کے ساتھ کیا تبدیلی آتی ہے؟
جوانی میں خون دماغی رکاوٹ عام طور پر مضبوطی سے کام کرتی ہے، تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی ساخت اور کارکردگی میں تبدیلی آسکتی ہے۔ بعض تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ بڑھتی عمر میں اس حفاظتی نظام کی حساسیت اور بعض حالات میں اس کی مضبوطی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمر بڑھنے والے ہر شخص میں خون دماغی رکاوٹ لازماً خراب ہوجاتی ہے، بلکہ اس میں تبدیلی کی نوعیت اور شدت مختلف افراد میں مختلف ہوسکتی ہے۔
دماغ کے لیے یہ نظام کیوں اہم ہے؟
خون دماغی رکاوٹ دماغ کے لیے ایک طرح کے حفاظتی فلٹر کا کام کرتی ہے۔ یہ خون میں موجود کئی نقصان دہ کیمیکلز اور دیگر مادوں کو دماغ کے حساس حصوں تک پہنچنے سے روکتی ہے، جبکہ دماغ کو درکار بعض ضروری غذائی اجزا کو گزرنے دیتی ہے۔
اگر یہ رکاوٹ کمزور ہو تو خون میں موجود بعض مادے نسبتاً آسانی سے دماغی بافتوں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے دماغ میں سوزش یا دیگر تبدیلیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
محققین نے عمر کے ساتھ خون دماغی رکاوٹ میں آنے والی تبدیلیوں کو دماغی سوزش، یادداشت اور بعض اعصابی بیماریوں کے ساتھ بھی زیرِ مطالعہ رکھا ہے۔ تاہم صرف عمر بڑھنے کی وجہ سے کسی شخص میں دماغی بیماری پیدا ہونا ضروری نہیں۔
ماہرین کے مطابق جینیاتی عوامل، طرز زندگی، بلڈ پریشر، ذیابیطس، نیند، جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت بھی دماغ کی عمر رسیدگی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
تحقیق ابھی جاری ہے
سائنس دان اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عمر کے ساتھ خون دماغی رکاوٹ میں آنے والی تبدیلیاں کب شروع ہوتی ہیں، کن عوامل سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور کیا ان تبدیلیوں کو سست یا بہتر کیا جاسکتا ہے۔اس تحقیق سے مستقبل میں عمر رسیدگی کے دوران دماغ کو محفوظ رکھنے اور بعض اعصابی بیماریوں کے علاج کے نئے طریقوں کی تلاش میں مدد مل سکتی ہے۔