آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جنگل میں نمایاں نظر آنے والا شیر یا چیتا اپنے شکار کے اتنا قریب کیسے پہنچ جاتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ شکار بننے والے جانوروں کی بینائی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ہرن، جنگلی سور اور کئی دوسرے شکار بننے والے جانور ڈائیکرومیٹک وژن رکھتے ہیں، یعنی ان کی آنکھوں میں رنگ پہچاننے والے صرف دو قسم کے مخروطی خلیے ہوتے ہیں۔
یہ خلیے بنیادی طور پر نیلے اور سبز رنگ کی لہروں کو محسوس کرتے ہیں، جبکہ انسانوں کی طرح سرخ رنگ کو پہچاننے والے خلیے ان میں موجود نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے یہ جانور سرخ اور نارنجی رنگ کو واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے، جسے سادہ الفاظ میں سرخ، سبز رنگوں کی کمزور پہچان بھی کہا جا سکتا ہے۔
نتیجتاً شیر یا چیتے کی چمکدار نارنجی کھال ان جانوروں کو نمایاں دکھائی دینے کے بجائے سبز مائل یا بھورے رنگ میں گھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جس سے شکاری جانور گھاس، جھاڑیوں اور جنگل کے ماحول میں آسانی سے چھپ جاتا ہے۔
اسی لیے جہاں انسان دور سے ہی شیر کو دیکھ لیتا ہے، وہیں ہرن جیسے جانور اکثر اس وقت تک خطرے کو محسوس نہیں کر پاتے جب تک شکاری ان کے بہت قریب نہ پہنچ جائے۔
ماہرین کے مطابق شیر کی نارنجی کھال دراصل انسانوں سے چھپنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے قدرتی شکار کی بینائی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ارتقائی عمل کے دوران ایسی بنی ہے، جس سے اسے شکار کرنے میں نمایاں برتری حاصل ہوتی ہے۔