وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد ایک غیر معمولی منظر نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی، جہاں مختلف علاقوں میں آسمان اچانک سرخ دکھائی دینے کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو گئیں، اس منظر کو دیکھ کر کئی افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید یہ کسی نئی قدرتی آفت کی علامت ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں، سرخ آسمان کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں اور کئی صارفین نے اسے زلزلے کے بعد رونما ہونے والا غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔
تاہم ماہرین موسمیات اور فضائی مظاہر کے ماہرین نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرخ آسمان ایک قدرتی فضائی مظہر ہے، جسے مقامی طور پر کاندیلازو کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی روشنی فضا میں موجود گرد و غبار، باریک ذرات اور صحارا کے صحرائی غبار سے گزرتی ہے، جس کے نتیجے میں سرخ اور نارنجی شعاعیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں، اس سائنسی عمل کو رے لی اسکیٹرنگ کہا جاتا ہے، جس کے باعث بعض اوقات آسمان غیر معمولی طور پر سرخ دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین نے مزید وضاحت کی کہ سرخ آسمان اور حالیہ زلزلوں کے درمیان براہِ راست کسی سائنسی تعلق کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ البتہ زلزلے کے بعد فضا میں گرد و غبار کی مقدار بڑھنے سے اس قدرتی منظر کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اسے کسی نئی قدرتی آفت یا خطرے کی علامت سمجھنا درست نہیں۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند سائنسی اور سرکاری ذرائع سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ بے بنیاد افواہوں سے بچا جا سکے۔