پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) عمران خان کی جیل سے نجی اسپتال منتقلی سے متعلق باخبر قانونی اور حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عدالت کی جانب سے صرف ایک روٹین کے طبی معائنے کا حکم دیا گیا تھا، جسے پاکستان تحریک انصاف کے حامی میڈیا کارندوں نے مستقل اسپتال منتقلی کا رنگ دے کر ایک نیا سیاسی ڈراما بنا ڈالا۔
اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد عدالتی احکامات کو غلط رنگ دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا اور عوام میں ابہام پیدا کرنا تھا۔
قانونی اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے دی جانے والی ہدایات کا بنیادی مقصد صرف یہ تھا کہ متعلقہ طبی ماہرین کی زیر نگرانی ایک روٹین چیک اپ کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیدی کی صحت سے متعلق حقیقی صورتحال سامنے آ سکے۔
تاہم اس سادہ قانونی کارروائی کو سوشل میڈیا اور مخصوص حلقوں کی جانب سے اس طرح پیش کیا گیا گویا کوئی بڑی منتقلی یا مستقل شفٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی کارروائی کو اس انداز میں موڑنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی کے من مانے دعوے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات زرد صحافت کی واضح مثال ہیں۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کے چند مخصوص عناصر نے عدالتی کارروائی کو توڑ موڑ کر پیش کیا تاکہ عوام میں ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور مبینہ طور پر کسی نام نہاد ریلیف یا ڈیل (این آر او) کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اس سارے معاملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کس طرح حقائق کو پسِ پشت ڈال کر سنسنی خیز خبریں چلائی جاتی ہیں۔
پروپیگنڈا بمقابلہ حقیقت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اور عدالتی معاملات کو کس مہارت سے سنسنی خیز پروپیگنڈے کی نذر کیا جاتا ہے۔
جب بھی کوئی عدالتی حکم سامنے آتا ہے، تو اسے قانون کی عینک سے دیکھنے کے بجائے ذاتی اور سیاسی مفادات کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔
روٹین کے طبی معائنے جیسے معمولی معاملے کو اسپتال منتقلی کے ڈرامے میں تبدیل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے حقائق کو کیسے مسخ کیا جاتا ہے۔
میڈیا کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مصدقہ اطلاعات پر انحصار کرے نہ کہ سوشل میڈیا کی بے بنیاد افواہوں کو سچ بنا کر پیش کرے۔
عدالت کے روٹین طبی معائنے کے حکم کو مستقل منتقلی کا رنگ دینے والے سیاسی پروپیگنڈے اور حقائق پر تفصیلی اخباری رپورٹ ملاحظہ کریں۔