پاکستان میں امراض قلب کے علاج کے لیے جدید ترین عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کا تاریخی آغاز

پاکستان میں امراض قلب کے علاج کے لیے جدید ترین عالمی معیار کی ٹیکنالوجی کا تاریخی آغاز

قومی ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) نے لیفٹ وینٹرکولر اسسٹ ڈیوائس (ایل وی اے ڈی) ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ہارٹ فیلیئر پروگرام شروع کرنے اور مستقبل میں دل کی پیوندکاری کے پروگرام کی باقاعدہ تیاریاں کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ اہم فیصلے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ گورننگ باڈی کے 85 ویں اجلاس میں کیے گئے، جن کا مقصد ملک میں دل کے سنگین مریضوں کو جدید ترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

سندھ حکومت کا عزم اور وژن

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت سندھ سمیت پورے پاکستان کے عوام کو مفت، معیاری اور آسان قلب علاج کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے قومی ادارہ امراض قلب کو ایک فلیگ شپ ہیلتھ کیئر ادارہ اور قیمتی قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ادارے کی کارکردگی کو مزید نکھارنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ہارٹ اٹیک سمیت امراض قلب کی شرح میں اضافے کی اہم وجہ دریافت

وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ نئے ہارٹ فیلیئر اقدام کے لیے تکنیکی معاونت، تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی طبی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں۔

کارکردگی کا جائزہ اور دیگر صوبوں کے مریضوں کی خدمت

اجلاس کے دوران قومی ادارہ امراض قلب کی شاندار کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ادارے نے 2025 کے دوران ہزاروں پیچیدہ کارڈیک پروسیجرز، سرجریوں اور ہنگامی مشوروں سمیت تخلص اور ماہرانہ خدمات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ فراہم کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، این آئی سی وی ڈی کراچی نے 2019 سے 2025 کے درمیان سندھ سے باہر کے 1.32 ملین سے زیادہ مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا۔

ان مریضوں کا تعلق بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ پورے ملک کے لیے امید کی کرن بنا ہوا ہے۔

اہم تقرری اور غیر ملکی ماہر کی خدمات

گورننگ باڈی کے اس اہم اجلاس میں امریکا کے معروف ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر جاوید سلیمان کی بطور پروفیسر آف کارڈیالوجی اور میڈیکل ڈائریکٹر رضاکارانہ تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔

خاص بات یہ ہے کہ یہ تقرری ادارے یا سندھ حکومت پر کسی بھی مالی بوجھ کے بغیر عمل میں لائی گئی ہے، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کی اپنے وطن کے لیے محبت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ادارے کا تاریخی سفر اور چیلنجز

قومی ادارہ امراض قلب طویل عرصے سے پاکستان میں دل کے امراض کے علاج کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ ابتدائی طور پر محدود پیمانے پر شروع ہونے والا یہ ادارہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک کو پھیلا چکا ہے۔

مزید پڑھیں:روزانہ کتنے گھنٹے بیٹھ کر کام کرنے سے امراض قلب کا امکان بڑھ جاتا یے؟

پاکستان میں دل کے امراض میں مسلسل اضافہ اور مہنگے علاج کے باعث عام آدمی کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، بالخصوص ہارٹ فیلیئر جیسے پیچیدہ کیسز میں مریضوں کو بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے جو کہ انتہائی مہقہ سودا ہے۔ ایسے میں ’ایل وی اے ڈی‘ ٹیکنالوجی اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کی بنیاد رکھنا ملکی تاریخ میں صحت کے شعبے کا ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔

قومی ادارہ امراض قلب کا یہ فیصلہ نہ صرف پاکستانی طبّی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ اس عزم کا غماز بھی ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود بلند حوصلے اور بہترین انتظامی فیصلوں سے بڑے معجزے رونما کیے جا سکتے ہیں۔

لیفٹ وینٹرکولر اسسٹ ڈیوائس ایل وی اے ڈی ٹیکنالوجی کا تعارف ان مریضوں کے لیے زندگی کی نئی امید ہے جن کے دل کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ماضی میں ایسے علاج صرف بیرونِ ملک یا انتہائی امیر طبقے کے لیے ہی ممکن تھے۔

مزید پڑھیں:لیڈی ڈیانا کے دوست برطانیہ سے پاکستان منتقل، بڑے ہسپتال کے سربراہ مقرر

تاہم، اس پروگرام کی کامیابی کے لیے حکومت اور ادارے کو ہنر مند عملے کی تربیت، مسلسل دیکھ بھال اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مربوط روابط پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

اس طرح کے اقدامات نہ صرف میڈیکل ٹورزم اور ملکی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط کریں گے بلکہ غریب عوام کا ریاست پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔

Related Articles