پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا

پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے بعض گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے دعوؤں کو ’بے بنیاد الزامات‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ الزامات نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد کے خلاف جاری ’مذموم مہم‘ کا ایک اور مظہر ہیں۔ اسلام آباد نے بھارت کی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں پر توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے بھارت پر ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کے الزامات دہرائے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے کچھ گرفتاریوں کو پاکستان سے منسلک کرنے کی کوشش سراسر بے بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے تکنیکی مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، دفتر خارجہ

اگرچہ دفتر خارجہ کے بیان میں کسی مخصوص بیان یا شخصیت کا نام نہیں لیا گیا، تاہم یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا جب بھارتی وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی حکومت نے مبینہ طور پر پاکستان کی حمایت یافتہ ایک دہشتگرد گروہ کو ’تباہ‘ کر دیا ہے اور اس کے متعدد کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس گروہ کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل تھی۔

دفتر خارجہ کا سخت ردعمل

دفتر خارجہ کے بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ پاکستان بھارتی وزیر داخلہ کے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، جن میں پاکستان کو بھارت میں ہونے والی بعض گرفتاریوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

بیان کے مطابق ایسا پروپیگنڈا بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری مذموم مہم کا ایک اور ثبوت ہے، جس کا مقصد اپنی داخلی سیکیورٹی چیلنجز سے توجہ ہٹانا اور محدود داخلی سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اندرونی طور پر بھارت ایک ’جابرانہ ریاست ‘ ہے، جو اپنی اقلیتوں پر بے دردی سے ظلم ڈھاتی اور اختلاف رائے کو خاموش کراتی ہے، جبکہ بیرونی سطح پر بھارت دہشتگردی برآمد کر رہا ہے اور دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے۔

پاکستان کا بھارت پر جوابی الزام

دفتر خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ بھارت کے بے بنیاد الزامات عالمی برادری کی توجہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی، ٹارگٹڈ قتل اور غیر ملکی سرزمین پر تخریب کاری سے نہیں ہٹا سکتے۔

بیان کے مطابق پاکستان نے متعدد مرتبہ بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی اور عدم استحکام پھیلانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان نے آسیہ اندرابی کے خلاف بھارتی عدالتی فیصلے کو مسترد کردیا، سزا غیر قانونی ہے، عالمی برادری فوری نوٹس لے، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے بھارتی بحریہ کے مجرم اور حاضر سروس افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے کا بھی حوالہ دیا، جسے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں بھارت کی براہ راست ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت قرار دیا گیا۔

عالمی برادری سے پاکستان کا مطالبہ

دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ’بے بنیاد‘ الزامات کو مسترد کرے اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی پر بھارت کا احتساب کرے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ محض الزام تراشی سے بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور علاقائی سطح پر اپنی مبینہ سرگرمیوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، خصوصاً دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کے معاملات پر دونوں ممالک ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ بھارت اس کی سرزمین پر تخریب کاری اور دہشتگردی کی سرپرستی کرتا ہے، جبکہ کلبھوشن جادھو کا معاملہ اس ضمن میں پاکستان کا سب سے اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے، جسے 2016 میں بلوچستان سے مبینہ جاسوسی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

 دوسری جانب بھارت بھی وقتاً فوقتاً اپنی سرزمین پر ہونے والی کارروائیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے۔ یہ تازہ بیان بھی اسی طویل کشیدگی کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

کیا یہ الزام تراشی سفارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کرے گی؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری الزامات کا یہ تازہ سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات فی الحال معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان طاقت کے استعمال سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہے، دفتر خارجہ کا بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل

دفتر خارجہ کا سخت لہجہ اور بھارت کو ’جابرانہ ریاست‘ اور ’دہشتگردی برآمد کرنے والا‘ ملک قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد اب دفاعی کے بجائے جارحانہ سفارتی حکمت عملی اپنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دینا اور کسی مخصوص شواہد کے بغیر پاکستان پر الزام عائد کرنا بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین اس نوعیت کے بیانات عموماً داخلی سیاسی مقاصد کے تحت بھی دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب کسی ایک ملک میں سیکیورٹی چیلنجز پرعوامی دباؤ بڑھ رہا ہو۔

کلبھوشن یاددیو کے معاملے کا بار بار حوالہ دینا پاکستان کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر اپنے مؤقف کو ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہے۔ تاہم جب تک کوئی غیر جانبدار تحقیقات یا بین الاقوامی ثالثی کا عمل شروع نہیں ہوتا، یہ الزامات کا سلسلہ دونوں جانب سے جاری رہنے کا امکان ہے، جو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

Related Articles