عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے لیے پی ٹی آئی نے عدالت عظمیٰ کو کیا یقین دہانیاں کرائیں؟

عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے لیے پی ٹی آئی نے عدالت عظمیٰ کو کیا یقین دہانیاں کرائیں؟

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس میں تفصیلی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری الشفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا لیکن اس سے قبل عدالت عظمیٰ کو تحریک انصاف نے چند یقین دہانیاں کرائیں۔

عدالت عظمیٰ نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے لیے رپورٹ کو مکمل خفیہ رکھنے اور اسپتال کے باہر کسی بھی نوعیت کی سیاسی سرگرمی سے روکنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔

حکم سے پہلے پاکستان تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی۔

پی ٹی آئی کی عدالت میں یقین دہانی

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے عدالت میں واضح یقین دہانی کرائی کہ پارٹی بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین دہانی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے بھی دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا عمران خان کو سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

سلمان اکرم راجہ کے ساتھ پارلیمانی سیکرٹری شاہد خٹک بھی موجود تھے، جنہوں نے اسپتال کے باہر کسی قسم کی سیاسی سرگرمی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

 وکیل نے عدالت سے کہا کہ عمران خان کو خفیہ طور پر بھی منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اس معاملے میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے واضح ہدایت دی کہ اسپتال کے باہر کوئی سیاسی مجمع اکٹھا نہیں ہونا چاہیے، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید کہا کہ اسپتال میں دیگر مریض بھی زیر علاج ہوتے ہیں، اس لیے ان کی نگہداشت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسپتال کے باہر میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنسز کا انعقاد نہ کیا جائے اور نہ ہی وہاں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی، جس پر سلمان اکرم راجا نے یقین دلایا کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر اس معاملے سے الگ رکھی جائیں گی۔

علاج کے اخراجات پر عدالت کا استفسار

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ اسپتال میں علاج کے اخراجات کون برداشت کرے گا، جس پر وکیل عذیر بھنڈاری نے یقین دہانی کرائی کہ علاج کے تمام اخراجات خود اٹھائے جائیں گے۔

عدالت نے اپنے حکمنامے میں واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے اخراجات ان کی فیملی برداشت کرے گی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ سرکاری خزانے پر اس ضمن میں کوئی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا مکمل حکمنامہ

سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں ہدایت دی کہ آئندہ چند دنوں میں بانی پی ٹی آئی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو مکمل رسائی دینے کا حکم دیا اور واضح کیا کہ ان کے لیے ایک باقاعدہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں آنکھوں کے ماہر اور جنرل میڈیسن کے شعبے سے ماہرین کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فیصل سلطان بھی شامل ہوں گے۔ عدالت نے ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی رسائی دینے کا حکم دیا۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ بانی پی ٹی آئی، ان کے اہل خانہ اور وکلا میں سے کوئی بھی ان کی میڈیکل رپورٹ میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کرے گا اور یہ رپورٹ مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔

 اس ضمن میں جسٹس نعیم اختر افغان نے واضح ہدایت دی کہ میڈیکل رپورٹ کی رازداری برقرار رکھی جائے، جس پر سلمان اکرم راجا نے بھی یقین دہانی کرائی کہ رپورٹ مکمل خفیہ رہے گی۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ  عمران خان کے اہل خانہ کے ساتھ ہفتہ وار بنیادوں پر ملاقات کرائی جائے۔

واضح رہے کہ عمران خان کی جیل میں قید کے دوران ان کی صحت کا معاملہ عدالتی اور سیاسی سطح پر مسلسل زیر بحث رہا ہے۔

مزید پڑھیں:عمران خان سے ملاقاتوں، صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

اس سے قبل سماعت کے دوران عدالت نے میڈیکل رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا تھا، جن میں دل، بلڈ پریشر اور دیگر طبی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے فوری طور پر اسپتال منتقلی کا عندیہ دیا تھا۔

 پی ٹی آئی کی جانب سے بارہا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو مناسب طبی سہولیات میسر نہیں، جبکہ حکومتی حکام اس تاثر کی نفی کرتے رہے ہیں۔ عدالت نے اس تنازع کے پیش نظر ہی معاملے کو سیاسی بیانیے سے الگ رکھنے پر خصوصی زور دیا اور فریقین سے تحریری یقین دہانیاں طلب کیں۔

کیا یہ حکمنامہ تمام فریقین کے لیے متوازن ہے؟

سپریم کورٹ کا یہ تفصیلی حکمنامہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے عمران خان کی طبی ضروریات اور عدالتی نظم و ضبط کے مابین ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک طرف عدالت نے فوری طبی نگہداشت کو یقینی بنانے کے لیے اسپتال منتقلی، ماہر معالج تک رسائی اور مستند میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم دیا، تو دوسری طرف اسپتال کے باہر سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر کے یہ واضح کر دیا کہ عدالتی احکامات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

میڈیکل رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا حکم بھی ایک اہم پہلو ہے، جو عمران خان کی نجی زندگی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ رپورٹ کے سیاسی استعمال کو روکنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

علاج کے اخراجات فیملی پر ڈالنے کا فیصلہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت نے معاملے کو مکمل طور پر شفاف اور غیر متنازع رکھنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اصل امتحان اس بات میں ہوگا کہ آیا فریقین، خصوصاً پی ٹی آئی، اپنی دی گئی یقین دہانیوں پر عملی طور پر کس حد تک قائم رہتے ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔

اگر تمام فریقین نے حکمنامے پر من و عن عمل کیا تو یہ کیس مستقبل میں اسی نوعیت کے حساس معاملات میں عدالتی توازن کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

Related Articles