وہیل کا آخری غوطہ، ایک ایسی حقیقت جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

وہیل کا آخری غوطہ، ایک ایسی حقیقت جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

وہیل دنیا کے ان منفرد جانوروں میں شامل ہیں جو مچھلیوں کی طرح گلپھڑوں سے نہیں بلکہ پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں وقفے وقفے سے سانس لینے کے لیے لازمی طور پر سمندر کی سطح پر آنا پڑتا ہے۔

ماہرینِ بحری حیات کے مطابق جب کوئی وہیل بڑھاپے، بیماری، شدید چوٹ یا طویل بھوک کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو جاتی ہے تو بعض اوقات وہ سطحِ آب تک واپس آنے کی طاقت کھو بیٹھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :مراکش کے گاؤں میں چاند کی روشنی سے روشن گلیاں، حقیقت کیا ہے؟

اس کیفیت کو بعض سمندری محققین ’’لاسٹ ڈائیو‘‘  یا آخری غوطہ قرار دیتے ہیں۔ اس دوران وہیل ایک بار گہرے پانی میں اترتی ہے، مگر دوبارہ سانس لینے کے لیے سطح تک واپس نہیں آ پاتی اور بالآخر سمندر کی تہہ میں جا پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گھونگوں کی فارمنگ سے روزگار کمانے کا نیا طریقہ، مانسہرہ کی خاتون کامنفرد کاروبار

سائنس دانوں کے مطابق سمندر کی تہہ میں وہیل کا جسم ’وہیل فال‘کہلاتا ہے۔ یہ محض ایک مردہ جسم نہیں ہوتا بلکہ گہرے سمندر میں رہنے والی بے شمار مخلوقات کے لیے خوراک اور رہائش کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک وہیل فال کئی برسوں، اور بعض اوقات کئی دہائیوں تک مختلف سمندری جانداروں کی بقا میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ تمام وہیل اسی طرح نہیں مرتیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی ضعیف یا شدید کمزور وہیلوں میں ایسا ہونا ممکن ہے۔یہ فطرت کا ایک حیرت انگیز پہلو ہے کہ ایک عظیم الجثہ جانور اپنی زندگی کے اختتام کے بعد بھی سمندر کی گہرائیوں میں نئی زندگی کو سہارا دیتا رہتا ہے۔

editor

Related Articles