قومی ٹیم کو عالمی معیار کا بنانے اور ورلڈ کپ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ مائیک ہیسن نے قومی کرکٹ ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
لاہور میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران مائیک ہیسن نے ٹیم کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی خاکہ پیش کیا، جس میں انہوں نے جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق بیٹنگ لائن کو 9 ویں نمبر تک مضبوط کرنے اور کھلاڑیوں میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
جدید کرکٹ کے تقاضے اور مائیک ہیسن کا وژن
پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈکوچ مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم اس وقت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، تاہم اسے دنیا کی صف اول کی ٹیم بنانے کے لیے ابھی بہت زیادہ محنت اور کام کرنا باقی ہے۔
اپنے ایک خصوصی اور تفصیلی بیان میں ہیڈکوچ مائیک ہیسن نے واضح کیا کہ پاکستان کو اگر دنیا پر راج کرنا ہے تو اسے جدید وائٹ بال کرکٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو ہر صورت سمجھنا ہوگا اور کھیل کے نئے رجحانات کے مطابق اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
انہوں نے دباؤ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑے میچوں اور اعصاب شکن مقابلوں میں بروقت اور بہتر فیصلے کرنا ہی کسی بھی ٹیم کی سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کرکٹ اب بہت تیز ہو چکی ہے اور اہم مواقع پر لیا گیا ایک درست فیصلہ ہی کسی بھی ٹیم کی کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔
ورلڈ کپ کا ہدف اور مستقل مزاجی کی اہمیت
مائیک ہیسن نے پاکستانی شائقین کرکٹ کو بڑی امید دلاتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم آئندہ آنے والے ورلڈ کپ میں محض حصہ لینے یا صرف تجربہ حاصل کرنے کے لیے میدان میں نہیں اترے گی، بلکہ ٹیم کا واحد اور حتمی عزم ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتنا ہے۔
انہوں نے کھلاڑیوں کو باور کرایا کہ اگر وہ واقعی عالمی کپ کی ٹرافی اٹھانا چاہتے ہیں، تو ٹیم کے اندر مستقل مزاجی لانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ کوئی بھی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتا جا سکتا۔
ہیڈکوچ نے پاکستان کے روایتی بیٹنگ آرڈر میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹی 20 کرکٹ میں اب وہ وقت گزر گیا جب صرف اوپری بلے بازوں پر انحصار کیا جاتا تھا۔
اب اگر میچ جیتنا ہے تو ٹیم کی بیٹنگ لائن میں کم از کم 8 ویں اور 9 ویں نمبر تک ایسے کھلاڑیوں کا ہونا ناگزیر ہے جو ہارڈ ہٹنگ کر سکیں، تاکہ میچ کی کسی بھی صورتحال میں ٹیم کا جارحانہ انداز متاثر نہ ہو اور آخری اوورز میں بھی رنز کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔
پاکستان کرکٹ کا حالیہ بحران اور ہیسن کی آمد
اگر پاکستان کرکٹ کے حالیہ پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ کچھ عرصے سے وائٹ بال کرکٹ (ون ڈے اور ٹی 20) میں پاکستان کی کارکردگی شدید تنقید کا شکار رہی ہے۔
بڑے ٹورنامنٹس میں ارلی ایگزٹ (جلدی باہر ہو جانا)، مڈل آرڈر کی مسلسل ناکامی اور جدید پاور ہٹنگ کے فقدان نے پاکستان کو دیگر عالمی ٹیموں سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
قومی ٹیم کی اسی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے اور ٹیم کلچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے مائیک ہیسن کو ہیڈکوچ کی ذمہ داریاں سونپیں۔
مائیک ہیسن اس سے قبل نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اور دنیا بھر کی مشہور لیگز بشمول آئی پی ایل میں کوچنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں دنیا کے بہترین کرکٹ مائنڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔
مائیک ہیسن کا یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کی کمزوریوں کو بخوبی بھانپ چکے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ سے جدید اپروچ کی کمی اور ٹیل اینڈرز (آخری نمبروں کے بلے بازوں) کی بیٹنگ کی کمزوری رہا ہے۔
جب ہیسن 9 ویں نمبر تک بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی بات کرتے ہیں، تو ان کا اشارہ ٹیم میں آل راؤنڈرز کی شمولیت اور بولرز کو بھی بیٹنگ سکھانے کی طرف ہے۔
مائیک ہیسن کا ورلڈ کپ جیتنے کا دعویٰ کھلاڑیوں کے مرجھائے ہوئے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے بہترین ہے، لیکن پاکستان کرکٹ کے موجودہ سیٹ اپ میں مستقل مزاجی لانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔
ہیسن کے پاس پلان تو بہترین ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا پاکستانی کھلاڑی اپنے روایتی دفاعی انداز کو چھوڑ کر اس جارحانہ مائنڈ سیٹ کو اپنا پاتے ہیں یا نہیں۔
اگر ہیسن اپنے اس فارمولے کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان آنے والے وقت میں وائٹ بال کرکٹ کی خطرناک ترین ٹیم بن سکتا ہے۔