آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے امریکا کو پہلے اسلام آباد معاہدے پر عمل کرنا ہو گا ، باقر قالیباف

آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے امریکا کو پہلے اسلام آباد معاہدے پر عمل کرنا ہو گا ، باقر قالیباف

سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکا کو پہلے اسلام آباد معاہدے پر عمل کرنا ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو بحری ناکہ بندی اور تیل کی پابندیاں بھی ختم کرنا ہوں گی، امریکا کو ایرانی منجمد اثاثے بھی بحال کرنا ہوں گے۔

باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کو تمام محاذوں پر دھمکیاں اور فوجی کارروائیاں بھی ختم کرنا ہوں گی، اندرونی اختلافات ملک کو کمزور اور دشمنوں کو ایران کے خلاف ترغیب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کیساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں ، ایرانی سپیکر باقر قالیباف

انہوں نے کہا کہ دشمن ایران میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایرانی عوام دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں قومی اتحاد برقرار رکھے۔

گزشتہ روز ایک بیان میں ایرانی سپیکر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر کے محور مزاحمت کو تسلیم کر لیا، ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران میزائل و نیوکلیئر پروگرام، مزاحمت، ہرمز بالائے طاق رکھے، مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا نے اسی رات ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ایرانی بھی آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایران سے متعلق بات پر میں نےمذاکرات کاروں سے کہا ٹرمپ بیان واپس لیں، میں نے مذاکرات کاروں سے کہا ٹرمپ نے بیان واپس نہ لیا تو ایران حملہ کرے گا، 58 منٹ بعد ہی ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹا دیا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانی ہو گی، ایرانی سپیکر باقر قالیباف

قبل ازیں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی نے کہا تھا کہ جب تک امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا اور ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا چاہیے جبکہ دیگر شرائط کے بارے میں امریکہ کو ثالثوں کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

editor

Related Articles