پشاور میں بجلی چوری کے خاتمے، واجبات کی وصولی اور لوڈشیڈنگ کے نظام میں بہتری کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے،کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیڈر کی بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں کمشنر پشاور نے پیسکو حکام کو ہدایت کی کہ ایسے علاقوں میں جہاں بجلی چوری یا واجبات کی عدم ادائیگی زیادہ ہے، پورے فیڈر کو بند کرنے کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے، اس اقدام کا مقصد باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بلاوجہ لوڈشیڈنگ سے بچانا ہے۔
بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
اجلاس میں بجلی چوری میں ملوث افراد اور بڑے نادہندگان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا، حکام کے مطابق کارروائی کا آغاز منگل سے کیا جائے گا، جس کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
خصوصی ٹیمیں تشکیل
بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی،ان ٹیموں میں پیسکو، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران شامل ہوں گے، جو مختلف علاقوں میں بجلی کے غیر قانونی استعمال اور بقایا جات کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
بقایا جات کی وصولی تیز
اجلاس میں پیسکو کے واجب الادا بجلی کے بلوں کی فوری وصولی پر بھی زور دیا گیا، کمشنر پشاور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بڑے نادہندگان سے بقایا جات کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ریکوری کے عمل میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔
نئے میٹرز کی تنصیب کا عمل تیز
حکام کو نئے بجلی کے میٹرز کی تنصیب کا عمل بھی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ میٹرنگ کے نظام کو بہتر بنا کر بجلی کے درست استعمال اور بلنگ کو یقینی بنایا جائے، جس سے بجلی چوری کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ طلب
کمشنر ریاض خان محسود نے بجلی چوری کے خاتمے، ریکوری اور میٹرنگ سے متعلق ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی، پیسکو اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بجلی چوری کے خلاف اقدامات کی مسلسل نگرانی کی جائے۔
کمشنر پشاور نے واضح کیا کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائی کسی مخصوص فرد یا علاقے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، بجلی کے نظام میں بہتری اور باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔