تاشقند کا مشہور کلاک ٹاور صرف وقت بتانے والی ایک تاریخی گھڑی نہیں بلکہ جنگ، ہجرت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ایک منفرد داستان بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گھڑی ازبکستان میں تیار نہیں کی گئی تھی بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد جرمنی کے ایک تباہ شدہ ٹاؤن ہال سے نکال کر تاشقند منتقل کی گئی تھی۔
بعد ازاں اس تاریخی گھڑی کو تاشقند میں نصب کیا گیا، جہاں یہ شہر کی شناخت اور تاریخی ورثے کی علامت بن گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کلاک ٹاور نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بن گیا۔
تاریخی ماہرین کے مطابق یہ گھڑی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ جنگوں کے دوران تباہ ہونے والی تاریخی یادگاروں کو محفوظ رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا کس قدر اہم ہے۔